نظام شمسی سے باہر پانی دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین فلکیات نےپہلی بار نظام شمسی سے باہر ایک سیارے میں پانی کی موجودگی کامشاہدہ کیا ہے۔ ایچ ڈی۔ دو، صفر، نو، چار، پانچ، آٹھ، بی کے نام سے معروف اس سیارے کی ہّیت سیارہ مشتری سے ملتی جلتی ہے اور یہ زمین سے ڈیڑھ سو نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس، اور مشتری سے ملتے جلتے ایک اور سیارے میں پانی کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں ۔ ان سائنسدانوں کی تحقیق کی تفصیلات ایسٹروفزیکل جرنل نامی جریدے میں شائع بھی ہوئی ہے۔ نظام شمسی سے باہر کے بیشتر سیاروں کی فضا میں آبی بخارات یا بھاپ کی موجودگی کی توقع ہمیشہ سے کی جاتی رہی ہے۔ حتی کہ سائنسدانوں کے خیال میں یہ آبی بخارات ان سیاروں میں بھی پائے جا سکتے ہیں جن کا اپنے مدار میں موجود مرکزی ستارے سے فاصلہ سیارہ عطارد اور سورج کے درمیان پائے جانے والے فاصلے سے بھی کم ہے۔ جبکہ ماضی میں نظام شمسی سے باہر کے سیاروں میں انکے مدار میں موجود ستاروں سے فاصلہ کم ہونے کے باعث ان میں پانی کی موجودگی کے امکانات کو رّد کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیارے کی شناخت اس لحاظ سے بہت آسان ہے کہ یہ سیارہ، جس پر پانی کی موجودگی کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں، اگر زمین سے دیکھا جائے تو اپنے مداری ستارے کے بلکل سامنے سے ہر ساڑھے تین دن بعد گزرتا ہے۔ اور جب بھی ایسا کوئی سیارہ جس کی فضا میں آبی بخارات موجود ہوں جب اپنے سورج کے سامنے سے گزرتا ہے تو اس کا حجم اسکے اصل حجم سےزیادہ بڑا نظر آتا ہے کیونکہ اسکے گرد غیر مرئی روشنی کا ایک ہالہ سا بن جاتا ہے۔
یہ نتائج ڈاکٹر بارمین کے ترتیب شدہ نئے فرضی نمونے اور ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے حبل سپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعےکی جانے والی پیمائش کے تجزئیے کی بنیاد پر اخذ کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر بارمین کا کہنا ہے کہ انکے دریافت شدہ حقائق اس مفروضے پر یقین کر لینے کے لئے کافی ہیں کہ نظام شمسی سے باہر کے سیاروں میں آبی بخارات موجود ہیں۔ اسکے باوجود کہ بعض دیگر سائنسدانوں کو طویل کوششوں کے باوجود اسی سیارے پر پانی کی موجودگی کے شواہد نہیں مل سکے ہیں۔ ڈاکٹر بارمین کا کہنا ہے کہ وہ بہت پر اعتماد ہیں کیونکہ اس، اور اس جیسے کئے دیگر سیاروں کی فضا میں پانی کی موجودگی کے بارے میں پیشگوئیوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ تاہم انکا کہنا ہے کہ زمین کے مقابلے میں غیر ٹھوس ماہیت کے اس سیارے پر زندگی کے آثار کا پایا جانا بہت مشکل ہے۔ ’دیگر نظام شمسی میں پانی کی تقسیم کو سمجھنا یقیناً ان سیاروں میں زندگی ممکن ہونے یا نہ ہونے کی گتھی سلجھانے کا ایک اہم حصہ ہے۔، سائنسدان اسطرح کی دوربینی ٹیکنالوجی کی تیاری میں مصروف ہیں جو اس طرح کے سیاروں سے آنے والی معمولی سی روشنی کا بھی تجزیہ کر سکیں گی جو وہاں زندگی کے آثار کے بارے میں معلومات میں معاون ہوں گی۔ یہ اسی نوعیت کے نشانات ہیں جو زمین سے منعکس ہونے والی روشنی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں پانی، آکسیجن اور میتھین گیس بلکہ ان سے بھی زیادہ پیچیدہ خلیوں مثلاً کلوروفیل کے اجزاء شامل ہیں جو فوٹو سینتھیسز کے عمل کو ممکن بناتے ہیں۔ جس سیارے میں پانی کی موجودگی کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں وہ ان سیاروں سے متعلق ہے جنہیں ’گرم مشتریوں’ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو اپنے ستاروں سے بہت زیادہ قریب پائے جاتے ہیں۔اپنے ستارے سے اتنی قربت کے باعث اس سیارے کی فضا اتنی زیادہ گرم اور پھیلی ہوئی ہے کہ یہ سیارے کی کشش ثقل سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ سائنسی اصولوں کے تحت ستارے سے ملنے والی حرارت کے باعث ہائیڈروجن گیس ابل کر سیارے کی فضائی حدود سے باہر نکل جاتی ہے۔ ا | اسی بارے میں گیلیلیوکی تباہی کافیصلہ 16 September, 2003 | نیٹ سائنس گلیلیو کا آخری سفر21 September, 2003 | نیٹ سائنس زحل کے چاند پر میتھین کی بارش21 January, 2005 | نیٹ سائنس ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں06 April, 2005 | نیٹ سائنس ہبل سے نئے سیاروں کی دریافت؟02 July, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||