BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 February, 2007, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں مشینی آنکھ کے تجربات
مشینی آنکھ
بایونک آئی نظام کے تحت ریٹینا کے عقب میں ننھے ننھے الیکٹروڈز نصب کیے جائیں گے
امریکی محققین کا کہنا ہے کہ آئندہ دو برس میں لاکھوں نابینا افراد کے لیے مشینی آنکھ کی مدد سے دیکھنا ممکن ہوگا۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے محققین کو فی الحال یہ’بایونک آئی‘ پچاس سے پچھہتر مریضوں کو لگانے کی اجازت دی ہے۔ یہ عمل امریکہ بھر میں دو برس کے دوران مکمل ہوگا۔

یہ آنکھ آرگس II نظام کے تحت کام کرے گی۔ اس میں آنکھ میں موجود الیکٹروڈز تک وژیول معلومات پہنچانے کے لیے کیمرا استعمال کیا جائےگا اور وہ مریض جنہیں کم درجے کے ’ریٹینل امپلانٹ‘ کی ضرورت ہے اس مشینی آنکھ کی مدد سے روشنی، اشکال اور حرکات دیکھ سکیں گے۔

بایونک آئی نظام کے تحت ریٹینا کے عقب میں ننھے ننھے الیکٹروڈز نصب کیے جائیں گے۔ اس نظام کے تحت ایک کیمرے کی مدد سے لی گئی تصاویر کو مریض کی بیلٹ میں نصب ایک دستی کمپیوٹر تک بھیجا جائے جو ان تصاویر کی بصری معلومات کو برقی سگنلوں میں بدل دے گا۔ یہ سگنل پھر مریض کی عینک اور اس کی آنکھ کے سامنے والے حصے کے نیچے نصب ریسیور تک پہنچیں گے جو انہیں آنکھ کے عقب میں موجود الیکٹروڈز تک ٹرانسفر کر دے گا۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا کے پروفیسر مارک ہمایوں کا کہنا ہے کہ’ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کیمرے سے ’ریئل ٹائم‘ تصاویر لے کر انہیں بہت چھوٹے برقی سگنلوں میں تبدیل کریں اور اس کی مدد سے نابینا افراد دیکھ سکیں‘۔

 بایونک آئی نظام کے تحت ریٹینا کے عقب میں ننھے ننھے الیکٹروڈز نصب کیے جائیں گے۔ اس نظام کے تحت ایک کیمرے کی مدد سے لی گئی تصاویر کو مریض کی بیلٹ میں نصب ایک دستی کمپیوٹر تک بھیجا جائے جو ان تصاویر کی بصری معلومات کو برقی سگنلوں میں بدل دے گا۔ یہ سگنل پھر مریض کی عینک اور اس کی آنکھ کے سامنے والے حصے کے نیچے نصب ریسیور تک پہنچیں گے جو انہیں آنکھ کے عقب میں موجود الیکٹروڈز تک ٹرانسفر کر دے گا۔

پروفیسر ہمایوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے کم ریزولیوشن والی مشینیں پہلے ہی چھ مریضوں میں نصب کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ صرف سولہ پکسل یا الیکروڈز کی مدد سے ہمارے وہ چھ مریض بہت کچھ دیکھ سکتے ہیں‘۔

اگر یہ’بایونک آئی‘ کامیاب رہی تو اسے تجارتی بنیادوں پر بھی تیار کیا جائے گا اور اندازاً اس کی قیمت تیس ہزار امریکی ڈالر ہوگی۔

بایونک آئی سے قبل بینائی کی بحالی کا عمل ’ریٹینا‘ کی تبدیلی کی مدد سے ہوتا ہے اور اس عمل کی مدد سے ان افراد کی بینائی جزوی طور پر بحال کی جاتی ہے جو’میکیولر ڈی جنریشن‘ یا ’ریٹینائٹس پگمنٹوسا‘ جیسی بیماریوں کا شکار ہو کر نابینا ہوئے ہوں۔

ان دونوں بیماریوں کے نتیجے میں آنکھ کے پیچھے موجود ریٹینل خلیے بتدریج ختم ہو جاتے ہیں ۔ دنیا میں قریباً پندرہ لاکھ افراد ’ریٹینائٹس پگمنٹوسا‘ کا شکار ہیں جبکہ پچپن سال سے زائد عمر کے ہر دس افراد میں سے ایک ’میکیولر ڈی جنریشن‘ کا مریض ہے۔

اسی بارے میں
بھوری، سبز اور سیاہ آنکھیں
21 December, 2006 | نیٹ سائنس
سیل ٹرانسپلانٹ سے بینائی واپس
09 November, 2006 | نیٹ سائنس
شوگر کےمریضوں کیلیئے امید
24 September, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد