کم عمر زیادہ جلدی کیوں سیکھتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یادیں کیسے بنتی ہیں‘ پر ایک مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بالغ افراد کے لیے نئی چالیں اور نئی زبانیں سیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اوکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بالغ افراد کو بچوں کی نسبت نئی باتیں سیکھنے میں زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بالغ افراد کے دماغ نئی چیزوں کو مختلف طریقے سے محفوظ کرتے ہیں۔ نیوران نامی جریدے کے اس مطالعہ میں سیل کی حرکات پر غور کیا گیا ہے جو کہ چوہوں میں سیکھنے اور یادیں محفوظ کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ محقیقین، جنھیں ’میڈیکل ریسرچ کونسل‘ اور ’ویلکم ٹرسٹ‘ کی مدد حاصل تھی، نے جوان اور بوڑھے چوہوں میں اعصابی سیل کے عمل کا تجزیہ کیا۔ یہ تحقیق ڈاکٹر نیجل ایمٹیج کی سرکردگی میں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ملنے والے نتائج سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ جوانوں اور بوڑھوں کے سیکھنے کے عمل میں کیا کیا فرق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر دماغ نئی چیزیں زیادہ جلدی سیکھ جاتے ہیں، جبکہ بالغ دماغ معلومات کو زیادہ اچھے طریقے سے محفوظ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اسی فرق کی وجہ سے بہت کم عمر بچے نئی معلومات اپنی دماغوں میں محفوظ کر لیتے ہیں جیسا کہ نئی زبان سیکھنا ان کے لیے بہت آسان ہوتا ہے‘۔ ڈاکٹر نیجل ایمٹیج کا کہنا ہے کہ’ بڑے ہو کر ہمارے لیے نئی چیزیں سیکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جس طریقے سے ہمیں معلومات محفوظ کرنی ہوتی ہیں وہ مختلف ہوتا ہے اور وہ انسانی دماغ کا وہ سسٹم استعمال کرتا ہے جو کہ پہلے سے استعمال ہو چکا ہوتا ہے‘۔ | اسی بارے میں اب ریاضی کی گتھیاں ہوئیں آسان 25 July, 2006 | نیٹ سائنس دماغی مردہ کےہاں بچی کی ولادت 03 August, 2005 | نیٹ سائنس ’دماغ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے‘12 September, 2005 | نیٹ سائنس آکوپنکچر دماغ کو سن کر دیتا ہے23 January, 2006 | نیٹ سائنس بیماری نہیں، محض ذہن کی اختراع06 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||