آکوپنکچر دماغ کو سن کر دیتا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی طریقہ علاج آکوپنکچر کے دوران انسانی دماغ کے ان حصوں کو سن کر دیا جاتا ہے جن میں جسم میں درد یا تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں ڈاکٹروں کو ان لوگوں کے ’سکین‘ کرتے ہوئے دکھایا گیا جن کا آکوپنکچر کے ذریعے علاج کیا جا رہا تھا۔ بی بی سی ٹو پر نشر ہونے والے پروگرام میں دل کے آپریشن دکھایا گیا جس کے دوران ایک مریض کو بے ہوش کرنے کے بجائے اس کے دماغ کو آکوپنکچر کے ذریعے سن کر دیا گیا تھا۔ چین میں ہونے والے اس آپریشن میں مریض کو بے ہوش نہیں کیا گیا اور اس کو نشہ آوور دوائیں اور مقامی طور پر اس کے جسم کے کچھ حصوں کو سن کر دیا گیا تھا۔ متبادل دوائیں اور اس کا ثبوت نامی اس پروگرام میں رضاکار مریضوں کے جسموں میں سوئیاں چبھوی جاتی ہیں اور ہاتھوں میں تو ایک ایک انچ تک سوئیاں چبھوب گئیں۔ اب سوئیں کو پھر چھیڑا جاتا ہے جس سے مریض پر مدہوشی سے طاری ہو جاتی ہے۔اس کیفیت کے دوران ڈاکٹروں نے ان مریضوں کا ’سکین‘ کیا تاکہ یہ پتا چلایا جا سکا آیا اس سے ان کے دماغ پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں یونیورسٹی کالج آف لندن، ساوتھ ہیمٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف یارک نے انکشاف کیا کہ سوئیوں چبھونے سے دماغ میں درد کے خلاف ردعمل کے طور پر ہونے والا عمل شرو ع ہو جاتا ہے۔ لیکن ان سوئیوں کو ایک انچ یا اس سے زیادہ چبھونے سے دماغ کا درد کو محسوس کرنے والا حصہ بے حس ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹروں کا یہ انکشاف حیران کن تھا کیوں کہ معالجین ہمشیہ سے یہ خیال کرتے تھے کہ آکوپنکچر سے دماغ کے کچھ حصوں میں احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر سکائز نے کہا کہ وہ یہ تجویز نہیں کر رہے کہ آپریشن کے دوران آکوپنچکر کو استعمال کیا جانا چاہیے جیسا کہ چین میں کیا جاتا ہے لیکن وہ یہ کہ رہے ہیں کہ آکوپنکچر سے مریضوں کی تکلیف کم کی جاسکتی ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ایک اور ڈاکٹر پروفیسر ٹونی وائیلڈسمتھ نے کہا کہ آکوپنکچر ہر کسی پر اثر انداز نہیں ہوتا اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں چکوترے سے مسوڑے مضبوط26 December, 2005 | نیٹ سائنس پروٹین والی ڈائیٹ کتنی مفید؟ 31 December, 2005 | نیٹ سائنس لوہے کے زمانے کے اجسام کی دریافت07 January, 2006 | نیٹ سائنس مزاحیہ فلمیں ’دل کے لیے اچھی ہیں‘17 January, 2006 | نیٹ سائنس تیل دار مچھلی کھاؤ، ذہن بناؤ21 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||