BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 December, 2005, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پروٹین والی ڈائیٹ کتنی مفید؟
پروٹین والی خوراک
اس ڈائیٹ سے صرف چند لوگ ہی اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں
ایک مرتبہ پھر سائنسدانوں نے زیادہ پروٹین والی ڈائیٹ کی غذائیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

وزن گھٹانے کے لیے یہ ڈائیٹ ایٹکنز ڈائیٹ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس ڈائیٹ میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اپنی روز مرہ خوراک میں پروٹین کی تعداد دوگنی کردی جائے جس سے وزن گھٹانے میں مدد ملے گی۔

تاہم دی نیچر میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس ڈائیٹ سے صرف چند لوگ ہی اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں۔ دوسری جانب پروٹین والی ڈائیٹ تجویز کرنے والے سائنسدان اپنے دعوے پر قائم ہیں۔

یہ ڈائیٹ ’ٹوٹل ویل بینگ ڈائئٹ‘ نامی ایک کتاب میں شائع ہوئی ہے اور یہ کتاب آسٹریلیا میں مئی تک سال کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ثابت ہوئی ہے۔

یہ کتاب ستمبر میں برطانیہ میں شائع ہوئی تھی اور اب جلد ہی امریکہ میں بھی جاری کردی جائے گی۔

کتاب کے مصنف نے یہ کتاب کافی تحقیقات کی بنیاد پر لکھی ہے۔

برطانیہ کی ایک ماہر خواراک ہیلن سٹیسی کا کہنا ہے کہ زیادہ پروٹین والی غذا کھانا مضر صحت بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ خوراک ہمیشہ متوازن ہی لینی چاہئیے۔ غذا کا توازن بگاڑنے سے ممکن ہے کہ چند لوگ وقتی طور پر وزن گھٹا لیں لیکن اس سے مستقل طور پر وزن کم رکھنا ناممکن ہے کیونکہ آپ جیسے ہی ڈائیٹ چھوڑ کر اپنی عمومی غذا پر واپس آئیں گے آپ کا وزن پھر سے بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

اسی بارے میں
پیراسیٹامول، جگر کی خرابی
08 December, 2005 | نیٹ سائنس
چکوترے سے مسوڑے مضبوط
26 December, 2005 | نیٹ سائنس
وٹامن ڈی سے کینسر میں کمی
28 December, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد