BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 December, 2005, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیراسیٹامول، جگر کی خرابی
پیراسیٹامول
برطانیہ میں ہر سال پیراسیٹامول کی پانچ سو ملین گولیاں فروخت کی جاتی ہیں
سائنسدانوں نے پیراسٹامول (درد کم کرنے والی گولی) کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے اس کے زیادہ استعمال کوصحت کے لیے مضر قرار دیا ہے۔

امریکہ میں جگر کی خرابی کےواقعات کثرت سےمنظر عام پر آئے۔ جگر کی خرابی کی اہم وجہ پیراسٹامول کا استعمال تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس گولی کے استعمال کے بعد ہونے والے کیسوں کا سالانہ تناسب انیس سو اٹھانوے میں اٹھائیس فیصد سے بڑھ کر اکیاون فیصد تک پہنچ گیا۔ اس قسم کے کیسوں کو acetaminophen کہا جاتا ہے۔

نیو سائنٹس نامی رسالے میں بتایا گیاہے کہ امریکی سائئنسدانو ں کی ٹیم نے دریافت کیا کہ ایک دن میں پیراسیٹامول کی محض بیس گولیوں کو استعمال کرنے سےموت واقع ہو سکتی ہے جبکہ درد کم کرنے والی اس دوا کی مقرر کردہ تعداد آٹھ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی فروخت پر پابندی سے برطانیہ میں اس کے کیسوں میں نمایاں کمی آئی۔

برطانیہ میں انیس سو اٹھانوے سے فارمیسیز کو کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو بتیس گولیوں پر مشتمل پیراسیٹامول کے ایک ڈبے سے زیادہ فروخت نہ کریں۔

یوایس ایکیوٹ لیور فیلئر گروپ نے انیس سو اٹھانوے سے دو ہزار تین تک کے چھ سو باسٹھ مریضوں کی کیس ہسٹری کا تجزیہ کیا جنہیں انتہائی نازک حالت میں جگر کی خرابی کے بعد طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔

ان میں درد کم کرنے والی اس دوا کو استعمال کرنے والے دو سو پچھتر کیس تھے۔ اڑتالیس فیصد نے غیر اداری طور پر اس دوا کو استعمال کیا، چوالیس فیصد نے خودکشی کی غرض سے جبکہ باقی کی وجوہات نامعلوم تھیں۔ چوتھائی سے زیادہ کیسوں میں مریضوں کی موت واقع ہو گئی۔

محققین نے دیکھا کہ پیراسیٹامول کی کم سے کم دس گرام مقدار جو بیس گولیوں کے برابر ہے ، جگر کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔

اس رپورٹ کی کو آرتھر ڈاکٹر اینی لارسن نے کہا کہ پیراسیٹامول سے ہونے والے خطرات کے بارے میں مریضوں، ڈاکٹروں اور فارمیسیز کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

لندن کے کنگز کالج ہسپتال کے انسٹیٹیوٹ آف لیور سٹیڈیز کے جان آو گریڈی کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اس دوا پر پابندیوں کے بعد اس کی وجہ سے جگر کی خرابی کے کیسوں میں تیس فیصد کمی آئی۔

برطانیہ میں ہر سال پیراسیٹامول کی پانچ سو ملین گولیاں فروخت کی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد