اب ریاضی کی گتھیاں ہوئیں آسان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چنئی کے بارہ سالہ ایس کے رامانندن کے لیئے ریاضی کی پیچیدگیاں ویسے ہی غیر دلچسپ ہوا کرتی تھیں جیسی کہ یہ اس کے دیگر دوستوں کے لیئے تھیں۔ لیکن یہ تب کی باتیں ہیں جب وہ’ہیےمیتھ‘ سے وابستہ نہیں تھا۔ ’ہیے میتھ‘ ہندوستان کی ایک آن لائن ٹیوٹوریئل کمپنی ہے۔ یہ کمپنی اینیمیشن ، گرافکس، اور قویز کے ذریعے آسان طریقوں سے طالب علموں کے علاوہ ٹیچروں کے لیئے بھی سبق تیار کرتی ہے۔ ہندوستان کے جنوبی شہر چینئی کے پدم شیشادری سکول کا طالب علم رامانندن آج ریاضی کا نہ صرف شوقین، بلکہ چیمپیئن بھی ہے۔ وہ کہتا ہے:’یہ سبق اتنے آسان طریقوں پر مبنی ہیں کہ میں اسے بہ آسانی یاد کر لیتا ہوں اور تمام پیچیدگیوں کے باوجود اپنا دھیان نہیں کھوتا۔‘ رامانندن کے علاوہ سنگاپور کی ڈیبورا چین کا بھی ماننا ہے کہ ’ہیے میتھ‘ کے سبق کی مدد سے ریاضی کی باریکیوں کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوئی ہے۔ میتھوڈسٹ گرلزسکول کی اس طالب علم کا کہنا ہے :’ اسکے ذریہ آسان طریقوں میں سمجھائے گئے سبق نے مجھے کا فی مدد کی۔‘ رامانندن اور کین کے علاوہ کافی ایسے طالب علم ہیں جوریاضی کو آسان طریقوں سے سیکھنے کے لیئے ’ہیے میتھ‘ کے شکرگزار ہیں۔ یہ کمپنی دنیا بھر کے ساٹھ سکولوں میں اپنا سبق فراہم کرتی ہے۔ اسکے لیئے یہ فی طالب علم ایک سو ڈالر بطور فیس لیتی ہے۔ ہندوستان میں یہ کمپنی صرف چھے سو روپے یا تیرہ ڈالرسالانہ لیتی ہے۔ امریکہ کےماسا چوسیٹ کا محکمہ تعلیم اسے اپنارسورس لرنگ مرکز قرار دے چکا ہے۔ ’دی ورلڈ از فلیٹ‘ کے مصنف تھامس فرائڈ مین کا کہنا ہے کہ ’ ہے میتھ ‘ کا مقصد گوگل کی طرح کامیاب ویب سائٹ بننا ہے۔ اس کمپنی کی شروعات بڑی دلچسپ ہے۔ یہ چھ سال پہلے کی بات ہے جب ہرش رنجن اور نرملا شنکرن لندن کی اپنی نوکری چھوڑ کر واپس چینئی آ گئے اور اسکی شروعات کی۔
رنجن کا کہنا ہے ’ ہم نے دیکھا کہ برطانیہ کے طالب علم میتھ جیسے غیر دلچسپ سبجیکٹ سے بھاگ رہے ہیں ۔اس لیئے ہم نے سو چا کہ اس سلسلے میں کچھہ کیا جانا چاہئے۔ ‘ ان لوگوں نے کیمبرج یونیور سٹی کے میلینیم میتھمیٹکس پروجیکٹ کے اشتراک کے ساتھ طالب علموں اور ٹیچروں کے لیئے سبق تیار کرنا شروع کر دیا۔ اور اس میں کافی کامیابی ملی۔ اب اساتذہ بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
ہندوستان میں آن لائن سہولیات کے استعمال کرنے والوں کی تعداد 50 میلیئن ہے۔ لیکن اب بھی بہت بڑی تعداد انٹرنیٹ کی پہنچ سے باہر ہے۔ ایسی صور ت میں ہندوستان کے اسکولوں میں جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے وہاں ہے میتھ جیسی سہولیات سے سبھی کو فائدہ اٹھانے میں ابھی اور وقت لگے گا۔ | اسی بارے میں ڈیجیٹل لائبریری منصوبے پرتنقید13 August, 2005 | نیٹ سائنس گوگل کی نئی سرچ سروس23 November, 2004 | نیٹ سائنس ’مسکراہٹ پڑھنا ذہانت ہے‘ 02 April, 2005 | نیٹ سائنس بھارت کا پہلا تعلیمی سیارہ 21 September, 2004 | نیٹ سائنس ذہانت، ذخیرۂ الفاظ کی محتاج نہیں15 February, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||