’مسکراہٹ پڑھنا ذہانت ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں لوگوں کی جذباتی ذہانت یا اموشنل اینٹیلیجنس اور انٹیوشن یا قوت ادراک کوجاننے کے لیے ایک بڑے تجربے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس تجربےمیں لوگوں کی امونشل اینٹیلیجنس اور قوت ادراک کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ آیا وہ اصلی اور نقلی مسکراہٹ میں تمیز کر سکتے ہیں یا نہیں۔ جمعہ کے روز اینڈنبرا سائنس میلے کے موقع پر تجربے کی تفصیل بتاتے ہوئے پروفیسر رچرڈ وائزمین نے کہا کہ میلے میں کئی تصاویر رکھی جا رہی ہیں جن میں لوگوں کو مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ میلے کے شرکاء سے پوچھا جائے گا کہ کن تصاویر میں مسکرانے والے واقعی مسکرا رہے ہیں اور کن میں ان کی مسکراہٹ محض دکھاوے کی ہے۔ تصویریں دکھائے جانے کے ساتھ ساتھ میلے کے شرکاء سے انٹیوشن کے بارے میں سوالات بھی کیے جائیں گے جس کے بعد ریسرچ میں حصہ لینے والے ماہرین اس بات کا انداذہ لگائیں گہ کہ کس قسم کے لوگ دوسروں کے جذبات جاننےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح میلے میں شریک لوگوں کو ان کی جذباتی ذہانت اور قوت ادراک کے بارے میں بتایا جائے گا۔ اس تجربے کے دوران مسکرانے والوں کی تصاویر کے مختلف حصوں کوباری باری ڈھانپ کر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ چہرے کا کون سا حصہ جذبات کی سب سے زیادہ عکاسی کرتا ہے۔ اس تجربے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آپ اس میں استعمال کی جانے والی تصاویرکو انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں اور گھر بیٹھے اس تجربے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||