کبوتر اور کیمیائی ہتھیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کا خفیہ ادارہ کبوتروں کو دشمن کے علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں میں استعمال کرنے کی تجویز پر غور کر رہا تھا۔ برطانوی انٹیلی جینس ایجنسی نے دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر ایک ’کبوتر کمیٹی‘ قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا تاکہ جانوروں کے ذریعے پیغام رسانی میں جو مہارت حاصل کی گئی ہے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔ نیشنل آرکائیوز سے جاری ہونے والے دستاویز کے مطابق وار آفس کے اٹیلی جینس سیکشن ایم آئی 14 نے متنبہ کیا تھا کہ ’کبوتروں پر تحقیق نہیں رکے گی، اگر ہم تجربات نہیں کریں گے تو دوسری طاقتیں یہ کریں گی‘۔ برطانوی خفیہ اداروں کی تاریخی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ اور جرمنی دونوں ہی پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کو بڑی کامیابی سے استعمال کر رہے تھے۔ دشمن کے کبوتروں کو دوران پرواز پکڑنے کے لیے برطانیہ کے خفیہ ادارے نے بازوں کا استعمال بھی شروع کر دیا تھا۔
کبوتروں کی اس افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانوی خفیہ ادارے نے انھیں دشمن کے علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے لیے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے لیے ایک ہزار کبوتروں کو تربیت دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ برطانیہ کی ایک خفیہ کمیٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ ایک ہزار کبوتروں پر مشتمل ایک ڈالی جس میں ہر کبوتر کے پروں کے ساتھ انتہائی مہلک ’بیکٹیریا‘ تاہم انیس سو پچاس میں اس طریقے سے حملہ کو ’دقیانوسی‘ تصور کرتے ہوئے اس منصوبے کو ختم کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||