BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 11:22 GMT 16:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیماری نہیں، محض ذہن کی اختراع
دماغ
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایک وائرس سے ذہن ’ری پروگرام‘ ہوسکتا ہے
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دائمی تھکاوٹ کی بیماری کی وجہ دماغ کی چوٹ ہوسکتی ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی ٹیم نے 1999 سے ’ایپسٹن برین‘ نامی وائرس میں مبتلا افراد کا تجزیہ کیا۔

ماہرین نے اس تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ وہ افراد جو وائرس کے خاتمے کے بعد بھی بیمار رہے، انہیں دماغ میں چوٹ کے باعث ایسا ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان افراد کا دماغ یہی سمجھتا رہا ک جیسے ابھی بھی وہ اس وائرس میں مبتلا ہیں اور بیمار ہیں۔

ایپسٹن برین وائرس سے ہونے والے بخار کو ’کسنگ ڈزیز‘ بھی کہتے ہیں۔ اس بیماری کے دوران بخار، گلے میں سوزش، تھکاوٹ اور لمف گلینڈز میں سوجن ہو جاتی ہے۔

زیادہ تر افراد اس مرض سے جلد ہی چھٹکارا پالیتے ہیں تاہم دس میں سے ایک فرد اس بیماری میں طویل عرصے کے لیئے مبتلا ہوجاتا ہے اور اسے ’کرانک فٹیگ سنڈروم‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کا وہ حصہ جو جسم میں بیماری اور تکلیف کا احساس رکھتا ہے، وہ اس وئرس کے بخار کے دوران شدید متاثر ہو جاتا ہے جیسا کہ دماغ کی چوٹ کے دوران ہوتا ہے۔ وہ کہتے کا ہیں ’اگر آپ کا جسم طوک عرصے تک بیماری کی موجودگی محسوس کرے تو متاثر ہونے والا دراصل آپ کا جسم نہیں بلکہ دماغ ہے اور یہ بیماری نہیں بلکہ محض ایک ذہنی حالت اور بیماری کا احساس ہے۔

اسی بارے میں
تیل دار مچھلی کھاؤ، ذہن بناؤ
21 January, 2006 | نیٹ سائنس
آکوپنکچر دماغ کو سن کر دیتا ہے
23 January, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد