بیماری نہیں، محض ذہن کی اختراع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دائمی تھکاوٹ کی بیماری کی وجہ دماغ کی چوٹ ہوسکتی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی ٹیم نے 1999 سے ’ایپسٹن برین‘ نامی وائرس میں مبتلا افراد کا تجزیہ کیا۔ ماہرین نے اس تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ وہ افراد جو وائرس کے خاتمے کے بعد بھی بیمار رہے، انہیں دماغ میں چوٹ کے باعث ایسا ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان افراد کا دماغ یہی سمجھتا رہا ک جیسے ابھی بھی وہ اس وائرس میں مبتلا ہیں اور بیمار ہیں۔ ایپسٹن برین وائرس سے ہونے والے بخار کو ’کسنگ ڈزیز‘ بھی کہتے ہیں۔ اس بیماری کے دوران بخار، گلے میں سوزش، تھکاوٹ اور لمف گلینڈز میں سوجن ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر افراد اس مرض سے جلد ہی چھٹکارا پالیتے ہیں تاہم دس میں سے ایک فرد اس بیماری میں طویل عرصے کے لیئے مبتلا ہوجاتا ہے اور اسے ’کرانک فٹیگ سنڈروم‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کا وہ حصہ جو جسم میں بیماری اور تکلیف کا احساس رکھتا ہے، وہ اس وئرس کے بخار کے دوران شدید متاثر ہو جاتا ہے جیسا کہ دماغ کی چوٹ کے دوران ہوتا ہے۔ وہ کہتے کا ہیں ’اگر آپ کا جسم طوک عرصے تک بیماری کی موجودگی محسوس کرے تو متاثر ہونے والا دراصل آپ کا جسم نہیں بلکہ دماغ ہے اور یہ بیماری نہیں بلکہ محض ایک ذہنی حالت اور بیماری کا احساس ہے۔ | اسی بارے میں دماغی مردہ کےہاں بچی کی ولادت 03 August, 2005 | نیٹ سائنس ’دماغ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے‘12 September, 2005 | نیٹ سائنس ’موبائل فون دماغ پر اثر نہیں کرتا‘20 January, 2006 | نیٹ سائنس تیل دار مچھلی کھاؤ، ذہن بناؤ21 January, 2006 | نیٹ سائنس آکوپنکچر دماغ کو سن کر دیتا ہے23 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||