ٹوٹتےتارے کی ایک جھلک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی ماہرین علم نجوم ایک ایسے ستارے کی جھلک دیکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو پھٹنے کے قریب ہے۔ یہ ستارہ اس سال فروری میں اچانک بہت زیادہ روشن ہو گیا، یہاں تک کہ ایک قلیل مدت کے لیے اس کی روشنی معمول سے ایک ہزار گنا زیادہ ہو گئی تھی۔ جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ’آر ایس اوپیچی‘ نامی یہ ستارہ خود کو ایک نیوکلائی دھماکے کے ساتھ تباہ کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ کسی ستارے کے اتنی زیادہ چکا چوند کے ساتھ پھٹنے کے عمل کو ’ٹائپ ون سپر نووا‘ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی ستارہ یوں پھٹتا ہے تو اُس سے سورج کی روشنی سے پانچ ارب گنا زیادہ روشنی نکلتی ہے۔ کائنات میں کسی دوسرے عمل میں اس سے زیادہ روشنی نہیں پیدا ہوتی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’ٹائپ ون سپرنووا‘ کو کائنات کے دوسرے سرے سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے ہر ’ٹائپ ون سپرنووا‘ میں قریب قریب ایک جتنی روشنی پیدا ہوتی ہے، اسی لیے کائنات میں فاصلوں کا تعین ایسے ستاروں کی زمین پر پہنچے والی روشنی سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس طرح سے کائنات کی وسعت ناپنے میں ایک مسئلہ ہے جو ماہرین نجوم کے لیے خفت کا باعت ہے اور وہ یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی ستاروں کے پھٹنے کو قریب سے نہیں دیکھ سکا ہے۔ اسی لیے کائنات کی وسعت کی کوئی پیمائش نہیں ہو سکی ہے اور ابھی تک جو بھی معلومات اس سلسے میں ہیں ان کی بنیاد مفروضوں پر ہے۔ ’سپر نووا‘ کا عمل کائنات میں بہت کم ہوتا ہے۔ ہماری کہکشاں میں آخری مرتبہ یہ شاید 1572 میں ہوا تھا جس کا مشاہدہ ڈنمارک کے عظیم ماہر نجوم ٹائکو براہی نے کیا تھا۔ انہوں نے پہلی دفعہ اصطلاح ’نووا‘ استعمال کی۔ ’نووا‘ کا مطلب ہے ’نیا ستارہ‘۔ ٹائکو کے خیال میں انہوں نے ایک نئے ستارے کے جنم کا مشاہدہ کیا تھا، لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے جو عمل دیکھا تھا وہ دراصل ایک ستارے کا دھماکے کے ساتھ پھٹنا اور ختم ہونا تھا۔ اگرچہ اب زیادہ تر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ٹائپ ون سپر نووا دراصل ستاروں کے پھٹنے کا عمل ہے لیکن دور جدید میں اس قسم کے جو بھی واقعات ہوئے ہیں وہ زمین سے اس قدر فاصلے پر ہوئے ہیں کہ یہ بتانا ممکن نہیں کہ ستارے کے پھٹنے سے پہلے کائنات میں اُس مقام پر کیا تھا۔ آخری دفعہ جب ایک ستارے سے اس قسم کی روشنی نلکنا شروع ہوئی تھی تو یہ 1985 کا سال تھا۔ اس وقت ماہرین نجوم کے پاس ایسے آلات نہیں تھے کہ وہ اس کا مشاہدہ کر پاتے۔لیکن اب ’ریڈیوڈش‘ کی مختلف قسموں اور خلاء میں بھیجی گئی دور بینوں کی مدد سے یہ ممکن ہو گیا ہے۔ رسالہ ’نیچر‘ میں ایک مضمون میں مایرین نجوم کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک ستارے سے دھماکے کے بعد گیس نکلنے کا مشاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں اس قدر توانائی خارج ہوتی ہے کہ آپ کو لگتا ہے جیسے ستارے کی اوپر کی سطح اڑ کر خلاء میں بکھرگئی ہو۔ ماہرین کی ٹیم کی سربراہ جینو سکولوسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ستارے کی سطح سے اڑ کر الگ ہونے والے پرت کے مطالعے سے آپ اس ستارے کے بارے میں جان سکتے ہیں جس سے یہ پرت اڑا تھا۔ ستاروں کے پھٹنے کے بارے میں غالب نظریہ یہی ہے کہ ستارے اس وقت پھٹتے ہیں جب ان کا حجم سورج کے حجم کا ایک اعشاریہ چار ہو جاتا ہے۔ ’آر ایس اوپیچی‘ نامی ستارے کا حجم سروج کے حجم کا 1.4 ہونے والا ہے۔ اس ستارے کے حجم میں ہر دہائی میں سورج کے دس لاکھویں حصے کے برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ستارے کا حجم جلد ہی اتنا ہو جائےگا کہ جس کے بعد یہ پھٹ جائے گا۔ لیکن کتنا جلد، اس کا کسی کو علم نہیں۔ جینو سولوسکی کا کہنا ہے ’ ہو سکتا ہے یہ کل ہی ہو جائے، لیکن زیادہ امکان اسی بات ہے کہ یہ آج سے ایک ہزار، دس ہزار یا ایک لاکھ سال بعد ہوگا۔ ایک بات تاہم واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی یہ ستارہ پھٹے گا اس سے اتنی روشنی خارج ہوگی کہ ہمیں دن کی روشنی میں بھی اس کی روشنی نظر آئے گی۔‘ اس دوران سائسندان اپنی تباہی کی طرف بڑھتے ہوئے اس ستارے کا مشاہدہ کرتے رہیں گے، اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ اس کائنات کے ایک بڑے معمے کی پوری تفصیلات جان سکیں۔ | اسی بارے میں کائنات کی حدوں پر نور کے فوّارے13 September, 2005 | نیٹ سائنس کائنات کےاربوں سال پرانےذرّات حاصل15 January, 2006 | نیٹ سائنس کائنات کی عُمر کا نیا تخمینہ22 May, 2004 | نیٹ سائنس کائنات کا سب سے کم عمر سیارہ 28 May, 2004 | نیٹ سائنس کائنات کی مصنوعی تخلیق کا تجربہ02 June, 2005 | نیٹ سائنس کائنات کے ماضی میں جھانکیۓ09 March, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||