جڑواں بچیاں الگ کردی گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سرجن دو جڑواں بچیوں کو ایک انتہائی پیچیدہ اور بارہ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ دس ماہ کی ان دونوں جڑواں بچیوں ریجینا اور ریناٹا سیلیناس فیروس کے سینے اور نچلے دھڑ آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے لاس اینجلس کے مقامی وقت کے مطابق چھ بجے آپریشن کا آغاز کیا اور ان کی پیلوک بون (پیڑو کی ہڈیوں) کو کاٹ کر الگ کیا۔ میکسکیو کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والی ان بچیوں کے جسموں کے بہت سے اعضاء مشترک یعنی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کے جگر، آنتوں اور پیلوس (پیڑوکی ہڈیوں) کو آپریشن کی مدد سے الگ کرنا تھا۔ جڑواں بچیوں میں سے ایک ریجینا کمزور تھی اور اس کے جسم میں صرف ایک گردہ تھا۔ اس آپریشن میں حصہ لینے والے ڈاکٹر ہینری فورڈ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بچیاں صحت مند اور بہتر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر کام بغیر کسی غلطی کے سوچ سمجھ کے سر انجام دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بچیوں کے والدین خوش اور آپریشن سے مطمن ہیں۔ آپریشن کی نگرانی کرنے والے سرجن جیمس اور ان کے ساتھ سینئر سرجن ڈومینک فیمینو نے دو ہزار تین میں دو جڑواوں بچوں کو آپریشن کی مدد سے الگ کیا تھا۔ امید کی جارہی ہے کہ ڈاکٹر تمام رات جڑواں بچیوں کے سینے کی دیواروں اور پیلوس (پیڑو) کے حصوں کی تشکیل نو پر کام کرنے کے ساتھ آپریشن سے آئے زخموں کو سی کر بند کرنے کا کام جاری رکھیں گے۔ اگر بچیوں کے جڑے ہوئے تمام اعضاء کو الگ کرنے کا آپریشن کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر جڑے اعضاء کی نسبت ان بچیوں کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ میکسیکو سے ان کے والدین امریکہ سیاحتی ویزے پر آئے تھے تاہم ان بچیوں کی لاس اینجلس میں پیدائش کے بعد بچیوں کوفورًا امریکی شہریت مل گئی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال سینکڑوں جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جڑواں بچوں کے بچنے کے امکانات پانچ سے پچیس فیصد کے درمیان ہوتے ہیں۔ پچھلے پانچ سو سالوں میں اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ تقریبا چھ سو جڑواں بچے زندہ رہے اور ان جڑواں بچوں میں زندہ رہنے والی ستر فیصد سے زائد بچیاں ہیں۔ | اسی بارے میں زندگی کے لیے جڑواں جدوجہد 10 September, 2005 | انڈیا جڑواں سر کی بہنیں الگ ہو سکیں گی؟04 October, 2005 | انڈیا آلودگی: جڑواں پیدائش کا سبب25 May, 2004 | نیٹ سائنس متبادل ماں کے ہاں پانچ جڑواں بچے28 April, 2005 | نیٹ سائنس ’جڑواں بچے چاہئیں تو دودھ پیجیئے‘21 May, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||