جڑواں سر کی بہنیں الگ ہو سکیں گی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست بہار کی صبا اور فرح سر سے جڑی ہوئی جڑواں بہنیں ہیں۔ لیکن کیا صبا اور فرح کو آپریشن کے ذریعے الگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ان دنوں یہ دونوں بہنیں گزشتہ تین ہفتوں سے دلی کے ایک ہسپتال ميں ہیں۔ جہاں مختلف ٹیسٹوں کے بعد یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا ری ہے کہ ان دس سالہ بچیوں کو آپریشن سے الگ کرنا ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔ تمام رپورٹوں کا جائزہ لینے کے بعد جڑواں آپریشن کے ماہر امریکہ کے نیورو سرجن ڈاکٹر بینجمن کارسن کا کہنا ہے کہ صبا اور فرح کا آپریشن ممکن ہے لیکن جب تک ان کے والدین آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے تب تک یہ آپریشن نہیں کیا جا سکے گا۔
اسپتال کے ایک سرکردہ ڈاکٹر انوپم سبل نے بتایا کہ ’بچیوں کے خاندان والوں کی اجازت کے بعد یہ آپریشن چھ مرحلوں میں پورا کیا جائے گا اور اس میں تقریبا 9 مہینے کا وقت لگے گا۔‘ مسٹر سبل نے بتایا کہ ان چھ مرحلوں میں سب سے پہلے کمپیوٹر کے ذریعے ایک ’تھری ڈی‘ ماڈل پر تجربہ کیا جائےگا، پھر دماغ تک پہنچنے والی رگوں کے راستے میں تبدیلی کی جائے گی اس کے بعد جس مقام پر دونوں کے سر جڑے ہوئے ہیں انہیں الگ کیا جائے گا اور پھر سر کی پلاسٹک سرجری کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ’اگر یہاں تک کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو فرح کے گردوں میں سے ایک گردے کو صبا میں ’ٹرانسپلانٹ‘ کر دیا جائے گا کیونکہ دونوں بچیوں میں سے صرف ایک ہی کے گردے ہیں‘۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں بچیوں کے ’انجیو گرافی‘ ٹیسٹ کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ سر سے جڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں کے دماغ اور دل تک خون پہنچانے والی رگ بھی ایک ہی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن کی مدد سے جسم کے کسی دوسرے حصے سے رگ نکال کر نئی رگ لگائی جائے گی۔ ابوظہبی کے ایک امیر نے جب ریاست بہار کی ان بچیوں کے بارے میں ایک مقامی اخبارمیں پڑھا تو انہوں نے ان کا علاج کروانے کی ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اس کے بعد ہی امریکہ کے جان ہاپکنس چلڈرنز سنٹر کے بنجمن کارسن کو ان کی ٹیسٹ رپورٹیں بھیجی گئیں۔ اس وقت ڈاکٹر کارسن دلی میں موجود ہیں اور آپریشن کی تیاریوں میں حصہ لے رہے ہيں۔ سرکردہ ڈاکٹر کارسن کو 1987 میں اپنی 70 رکنی ٹیم کے ساتھ جرمنی کے سات مہینے کے جڑواں بچوں کو الگ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے 1997 میں 50 ڈاکٹروں کے گروپ کے ساتھ گیارہ مہینے کے جڑواں بچوں کو الگ کیا تھا۔ لیکن اس طرح کے جڑواں بچیوں کو میڈیکل کی اصطلاح میں ’ کنجؤانڈ ٹوئنس‘ کہتے ہیں۔ ایران کی 29 سالہ بہنیں لالےاور لادین بیجانی کے آپریشن کے بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||