زندگی کے لیے جڑواں جدوجہد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سرکردہ ڈاکٹر بہار کی دو ایسی بہنوں کو آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جن کے سر جڑے ہوئے ہیں۔ طبی تاریخ میں اس طرح کے آپریشن عام طور پر ناکام ہی رہے ہیں لیکن یہاں کے ڈاکٹروں کہ کہنا ہے کہ اگر زندگی بچانے کی امید رہی تو ہی وہ آپریشن کریں گے۔ صبا اور فراح انہیں بچوں کی طرح ہیں جنہیں کیرم کھیلنا بے حد پسند ہے اور فلم اداکار سلمان خان ان کے پسندیدہ ہیرو ہیں۔ دونوں کو اسکول جانا بالکل اچھا نہیں لگتا لیکن صبا کو بارش بہت اچھی لگتی ہے جبکہ فرحا کو بارش ميں گھومنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔ سر سے جڑئی ہوئی یہ 10 سالہ بچیاں ان دنوں دلی کے اپولو اسپتال میں ہیں اور طبی ماہرین مختلف ٹیسٹ کر کے یہ پتہ لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ کیا ان بچیوں کو آپریشن کے ذریعے الگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جانچ کے بعد پتہ چلا ہے کہ ان میں سے ایک کے گردے ہی نہیں ہیں اور ان کی دماغ کی رگیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر مکل ورما نے بتایا کہ ’دماغ میں رگوں کے اس طرح جڑے ہونے کے سبب ہی آپریشن کے وقت دقت پیش آتی ہے اور آپریشن ناکام ہو جاتا ہے‘۔
اگر یہ آپریشن ہو تا ہے تو اس میں تقریبا 70 ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگي اور آپریشن کم از کم 48 گھنٹے تک جاری رہے گا۔ اب تک ہونے والے ٹیسٹوں کی رپورٹیں امریکہ کے ’جان ہاپکنس چلڈرن سنٹر‘ کے طبی ماہرین بنجیمن کارسن کو بھیج دی گئی ہے۔ ڈاکٹر کارسن تمام رپورٹوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کرنے میں مدد کريں گے کہ آپریشن کس حد تک کام یاب رہے گا۔ اپولو اسپتال کے ڈاکٹر راجندر پرساد کو ڈاکٹر کارسن کے جواب کا انتظار ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ’جب تک رپورٹ نہیں آجاتی ہم آگے کوئی جانچ نہیں کریں گے‘۔ اس آپریشن کا خرچ ابو دبئی کے سلطان شیخ محد بن زائد ال نہیان اٹھا رہے ہيں۔ جنہوں نے ان بچیوں کے متعلق ایک خبر مقامی اخبار میں پڑھی تھی۔ فرح اور صبا کے والد شکیل احمد کو امیدیں بھی ہیں اور اندیشے بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’خدا کے بعد اب صرف ان ڈاکٹروں پر ہی بھروسہ ہے جو میری بچیوں کا علاج کر رہے ہیں‘۔
دو کروڑ پیدائشوں میں سے اس طرح کا کیس صرف ایک ہوتا ہے۔ ان میں سے بیشتر کی پیدا ہوتے ہی موت ہو جاتی ہے۔ اس سے قبل 1987 میں سات مہینے کے اسی طرح کے جڑواں بچوں کو آپریشن کے زریعے کامیابی سے الگ کیا گیا تھا اور 2002 میں جرمنی کے ایک سالہ جڑواں بچوں کو الگ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن ایران کی 29 سالہ بہنیں لالہہ اور لادن آپریشن کے بعد 50 گھنٹے بعد ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||