BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2004, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جڑواں بہنوں کی موت کی تحقیقات
ایرانی بہنیں
ایرانی بہنوں کی آپریشن کے دوران لی گئی ایک تصویر
سنگاپور میں ان دو ایرانی بہنوں کی موت کی تحقیقات کا حکم یا گیا ہے جو جڑے ہوئے سر کی علیحدگی کے آپریشن کے دوران انتقال کر گئی تھیں۔

ان دونوں بہنوں کی موت چون گھنٹے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے دوران خون کی زیادہ مقدار بہہ جانے سے واقع ہوئی۔

بتایا گیا ہے انکوائری کے دوران اس بات کا سراغ لگایا جائے گا کہ آپریشن کے دوران ڈاکٹروں سے کوئی کوتاہی تو سر زد نہیں ہوئی۔

زندگیوں کو خطرے میں ڈال دینے والے اس نازک آپریشن سے چند گھنٹے قبل ان جڑواں بہنوں لدان اور لالہ بجانی نے کہا تھا کہ اگر خدا کو منظور ہوا تو وہ زندہ رہیں گی اور دو علیحدہ افراد کی طرح زندگی گزاریں گی۔

میڈیکل سائنس کی تاریخ میں جڑے ہوئے سروں کو علیحدہ کرنے کے آپریشن انیس سو باون سے کیے جا رہے ہیں لیکن ایرانی بہنوں کا آپریشن اس عمر کی جڑواں خواتین کا پہلا آپریشن تھا۔

آپریشن سے پہلے جڑواں بہنوں نے کہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر بلکل تیار ہیں اور انہیں آپریشن کرانے میں کوئی ڈر محسوس نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ہر طرح کے خطرے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔‘

جرمنی کے ڈاکٹروں نے سن انیس سو چھیانوے میں ان بہنوں کی جانوں کے خطرے کے پیش نظر ان کا آپریشن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

چھوٹی چھوٹی خواہشیں
 ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت سے چھوٹی چھوٹی سی خواہشوں کی تکمیل کے لیے ترستی رہی ہیں

وہ گیارہ سالہ نیپالی جڑواں بھائیوں کے کامیاب آپریشن کی خبر سن کر سنگاپور گئی تھیں۔

ایران کے شہر فیروزآباد میں پیدا ہونے والی ان بہنوں کا کہنا تھا کہ وہ بچپن ہی سے الگ ہونا چاہتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت سے چھوٹی چھوٹی سی خواہشوں کی تکمیل کے لیے ترستی رہی ہیں۔ ان دونوں بہنوں نے قانوں کی تعلیم حاصل کی ہے اور ان میں لدان وکیل بننا چاہتی ہے۔ جبکہ لالہ اخبار نویس بننا چاہتی ہے۔

لالہ اور لادن سنگاپور میں اپنے سروں کی علیحدگی کے لئے آپریشن کے آخری مراحل میں زیادہ خون بہہ جانے سے ایک دوسرے کے نوّے مِنٹ کے اندر انتقال کر گئیں۔

ذکیہ نے بتایا کہ ایک بہن دوسری سے کہہ رہی تھی کہ ’میں تم سے تنگ آ چکی ہوں تم ہر وقت مجھ سے چپکی رہتی ہو، میں تم سے جان چھڑانا چاہتی ہوں‘۔

جمنی میں انکار
 جرمنی کے ڈاکٹروں نے سن انیس سو چھیانوے میں ان بہنوں کی جانوں کے خطرے کے پیش نظر ان کا آپریشن کرنے سے انکار کر دیا تھا

دونوں بہنوں کو ایک سال کی عمر میں گود لینے والے علی رضا سفیان نے کا کہنا تھا کہ ان کی موت کے بعد وہ بہت خالی پن محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے روتے ہوئے آپریشن کرانے کے فیصلے پر غُصے کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ایران سے جا رہی تھیں تو انہیں پتہ تھا کہ اب وہ نہیں ان کی میتیں ہی واپس آئیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد