پانچ بہنیں آپریشن کے بعد مرد بن جائیں گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب جیسے قدامت پسند ملک میں پانچ بہنوں کی جنس ایک آپریشن کے بعد تبدیل کرکے انہیں مرد بنا دیا جائےگا۔ جو ڈاکٹرز یہ آپریشن کررہے وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ ’جنس کی اصلاح‘ کا آپریشن ہے ’جنس تبدیل‘ کرنے کا نہیں۔ سعودی عرب میں ان افراد کے آپریشن کی اجازت نہیں ہے جن میں کسی ایک جنس کی خصوصیات تو پائی جاتی ہیں تاہم ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ مخالف جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے برعکس ان افراد کی ’جنس کے اصلاح‘ کے آپریشن کی اجازت ہے جن میں دونوں جنسوں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ پانچ میں سے تین بہنوں کا آپریشن ہوچکا ہے جبکہ باقی دو کا آپریشن اگلے ہفتے ہوگا۔ ان کی عمریں انیس سے اڑتیس سال تک ہیں۔ یہ آپریشن کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں ڈاکٹر یاسر جمال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ یہ بہنیں عرب نژاد ہیں لیکن ان کا تعلق سعودی عرب سے نہیں ہے اور تمام عمر غیر عرب ممالک میں رہی ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی ہے۔ آپریشن کے بعد ایک دوسرے مقام پر منتقل ہوجائیں گی اگرچہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی کمیونٹی میں کسی مشکل کا سامنا نہیں تھا۔ ڈاکٹر جمال کہتے ہیں کہ ان بہنوں میں مرد یا عورت دونوں کی جنسی خصوصیات موجود ہیں تاہم واضح طور پر انہیں کسی جنس سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا ہے وہ کبھی ان افراد کا آپریشن نہیں کریں گے جو جنس تبدیل کروانے کی محض خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں اجازت نہیں ہے جو کچھ اللہ بنائے اس میں تبدیلی کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||