پانڈے: جنسی رویّوں کی نگرانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی سائنسدانوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ دنیا میں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار پانڈا نامی جانوروں میں جنسی تعلق اور رویے کی نگرانی اب سیٹیلائٹ سے کی جائے۔ یہ چین اور امریکہ نے باہمی اشتراک سے بنایا ہے اور اس کے لیے گلوبل پوزیشننگ سسٹم یعنی جی پی ایس استعمال کیا جائے اور یہ نگرانی چین کے صوبہ شانزی کے ان مقامات کی جائے گی جہاں پانڈا جانوروں کی آماجگاہیں اب بھی موجود ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد پانڈے کی افزائش نسل میں سست رفتار کا جائزہ لینا ہے تا کہ افزائش نسل کی رفتار بڑھا کر انہیں ناپید ہونے سے بچایا جا سکے۔ چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نگرانی کے لیے روایتی طریقے کار آمد ثابت نہیں ہو سکتے۔ چینی سائنسدان اس سلسلے میں ہمیشہ ہی انوکھی تجاویز پیش کرتے ہیں اور اس سے پہلے انہوں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ان جانوروں کو افزائش نسل کے لیے باہمی جنسی عمل کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز دکھائی جائیں۔ ان تمام کوششوں کے باوجود کہا جاتا ہے کہ ابھی اس جانور کے ناپید ہونے کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ گزشتہ سال کہا گیا تھا کہ پانڈا کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اب صورتحال اتنی خراب نہیں جتنی کہ سمجھی جا رہی تھی۔ چین کی حکومت نے ’جائنٹ پانڈا‘ کے بارے میں اب تک ہونے والے سب سے بڑے سروے کے بعد اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق اس وقت قدرتی ماحول میں رہنے والے پانڈا کی تعداد سولہ سو ہے اور یہ تعداد پہلے کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||