امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کر لیا ہے جس کے تحت کسی چیز کو نظر سے اوجھل کر دینا کم از کم کتابی حد تک یعنی تھیوری کے اعتبار سے ممکن ہے۔ سائنسی جریدے ’نیچر‘ کی news@nature.com نامی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ایک آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست فلیڈیلفیا میں پینسلوینیا یونیورسٹی کے آندرے الیو اور نیڈر اینگیٹا جو پیشے کے اعتبار سے الیکٹرونک انجینیئر ہیں، اس نئی تھیوری کے خالق ہیں۔ ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ ان دونوں انجینیئروں نے ایک ہائی ٹیم غلاف ’پلازمونِک کلوک‘ کی تجویز پیش کی ہے جسے اوڑھنے والی ہر شئے بظاہر نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔ اس نئے طریق کار میں بعض دھاتوں کی سطح پر ’پلازمونز‘ یعنی چھوٹی برقی لہریں پیدا کی جائیں گی جس کے نتیجے میں دھات کی سطح سے روشنی ٹکرانے کے بعد واپس نہیں لوٹے گی۔ آسان الفاظ میں یہ کہ روشنی کے اشیاء سے ٹکرا کر لوٹنے کی صفت کے سبب ہی انسانی آنکھ ان کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہوتی ہے اور اگر کسی طرح اشیاء سے ٹکرا کر لوٹنے والی روشنی کو کم یا ختم کیا جا سکے تو تکنیکی اعتبار سے یہ اشیاء نظر سے اوجھل ہو سکتی ہیں اور یہی نکتہ پینسلوینیا یونیورسٹی کے انجینیئروں کی نئی تھیوری کی بنیاد ہے۔ تاہم سائنسی امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ تصور ٹی وی کی مشہور سیریئل سٹار ٹریک سے لیا گیا ہے جس میں محض ایک بٹن کے دباتے ہی خلائی جہاز غائب ہو جاتا تھا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ نئی تھیوری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی مدد سے صرف چھوٹی اشیا کو ہی نظر سے اوجھل کرنا ممکن ہو سکے گا۔ |