کیلوں اور مالٹوں کی سرجری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی ملازمت میں قدم رکھنے سے پہلے سب سے بہتر یہ ہے کہ اس کا تھوڑا بہت عملی تجربہ حاصل کیا جائے تاکہ آپ یہ فیصلہ کرسکیں کہ آیا یہ شعبہ آپ کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ لیکن کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں ایسے ابتدائی تجربے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ سرجری یا آپریشن کا شعبہ بھی انہیں میں سے ایک ہے جس میں ناتجربہ کار ٹین ایجرز کو محض تجربے کی خاطر آپریشن کی ذمہ داری نہیں سونپی جاسکتی۔ تاہم ہسپتال کے ایک کنسلٹنٹ کا خیال مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھا سرجن بننے کے لیے ابتدائی تجربہ ضروری ہے لیکن یہ تجربہ ضروری نہیں کہ انسانوں پر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے قریب ترین تجربہ کیلوں کو ٹانکے لگانا یا پھر مالٹے کی چیر پھاڑ کرنا ہے۔ ایسا ہی دو روزہ کورس نورفوک میں گریٹ یارماؤتھ ہسپتال کے ڈاکٹر ولیم ناٹکٹ ہر سال کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر ولیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اصل تجربہ تو نہیں لیکن اس سے کم از کم طالب علم ہسپتال کے ماحول سے تو واقف ہوہی سکتے ہیں۔ کورس کے دوران ماہر سرجن طالب علموں کے سامنے آپریشن کرکے دکھاتے ہیں۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ کورس ان کے لیے بہت کار آمد ثابت ہورہا ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||