جرمن لال بیگ مارنے کا نیا طریقہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنس دانوں نے لال بیگوں یعنی کاکروچوں کو ہلاک کر نے کا موثر طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ امریکی سائنسدانوں کے مطابق لال بیگوں کی ایک قسم ،جرمن لال بیگ، جو انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے، کو مارنے کا ایک موثر طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ سائنسدانوں نے لال بیگوں کو مارنے کے لیے جنسی کشش کا سہارا لیا ہے اور ایک ایسا کیمیکل تیار کیا ہے جس کی خوشبو اس مادہ کی طرح ہو گی جو مادہ لال بیگ نر لال بیگ کو جنسی طور پر اپنے طرف مائل کرنے کے لیے خارج کرتی ہے۔ سائنسدانوں نے کافی تحقیق کے بعد ایسا کیمیکل بنا لیا ہے جس کی خوشبو نر لال بیگوں کی جنسی خواہش کو ابھارنے میں مدد دے گی اور وہ ایک جگہ اکھٹے ہو جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ کرہ عرض پر سب سے زیادہ پائے جانے والے والا لال بیگ ہر شہر میں انسانوں کو آزار دینے لیے موجود ہے۔ سائسندانوں کا خیال ہے کہ لال بیگوں کو اکھٹے کرنے کے بعد ان کے پر دوا چھڑک کی مارا جا سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||