الاسکا کے تیس ہزار سالہ بیکٹیریا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الاسکا سے ملنے والے منجمد بیکٹیریا کے ایک گروہ نے برف میں تیس ہزار سال تک زندہ رہ کر سائنسدانوں کو حیران کردیا ہے۔ برف میں منجمد یہ بیکٹیریم زیرِ سطح ایک سرنگ سے برف کو کاٹ کر دریافت کیے گئے ہیں۔ یہ دریافت امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدان رچرڈ ہور نے کی۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ ان بیکٹیریم کا خوردبین سے مطالعہ کررہے تھے تو برف کے پگھلتے ہی ان بیکٹیریم نے متحرک ہو کے یوں تیرنا شروع کردیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ تیس ہزار سال قدیم ایک ایسے دور سے جب وولی میمتھ اور لمبے دانت والے چیتے زمین پر پھرتے تھے یہ ایک نئی دریافت ہیں۔ ان بیکٹیریم کا نام ’کارنو بیکٹیریم پلیسٹوسینیم‘ رکھا گیا ہے۔ مسٹر ہوور کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ اسی طرح کی حیات مریخ کے منجمد سمندروں میں بھی زندہ پائی جاسکتی ہے۔ جن کے وجود کا ثبوت حال ہی میں ملا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||