مریخ: پانی، میتھین گیس کے آثار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی خلائی تحقیقی ادارے یورپیئن سپیس ایجنسی نے مریخ پر پانی اور میتھین گیس کی موجودگی کے بارے میں شواہد ملنے کا اعلان کیا ہے۔ ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے مریخ کے بارے میں تحقیق کرنےوالے اس کے مشن ’مارس ایکپریس‘نے جو شواہد جمع کیے ہیں، ان سے مریخ پر پانی کی موجودگی کا پتہ چلتاہے۔ ایجنسی نے کہا کہ مریخ کے کچھ حصوں پر پانی اور میتھین گیس کے آثار ملے ہیں اور ان دونوں ہی عناصر کا زندگی سے اہم تعلق ہے۔ تاہم بی بی سی کے سائنس کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مریخ پر زندگی کی موجودگی کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ میتھیں گیس آتش فشاں چٹانوں کے پہٹنے سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریخ پر میتھین گیس کی موجودگی سے خلائی تحقیق کرنے والے سائنسدانوں میں دلچسپی کا باعث ہے اور اس بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||