’آئی فون کا پاس کوڈ سو ڈالر میں توڑا جا سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ معروف کمپنی ایپل کے آئی فون کے پاس کوڈ کو کامیابی سے توڑنے کے لیے صرف ایک سو ڈالر لاگت کے آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
برطانوی یونیورسٹی کیمبرج کے ایک طالب علم آئی فون کی میموری چپس کی نقل بنانے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد وہ آئی فون کے پاس کوڈ کو توڑنے کے لیے بے شمار کوششیں کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ آئی فون میں اگر آپ ایک حد سے زیادہ غلط پاس کوڈ ڈالیں تو فون میں موجود تمام فائلیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے اس طالب علم کی جانب سے بے شمار کوششیں کرنے کی صلاحیت ایجاد کرنے سے آئی فون کا پاس کوڈ توڑنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔
یہ تحقیق امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ آئی فون کی چپس کی نقل کرنے سے یہ ممکن نہیں ہوگا۔
ایف بی آئی نے یہ دعویٰ اس وقت کیا تھا جب وہ سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق تک رسائی کے لیے عدالت سے استعدعا کر رہے تھے کہ اپیل کمپنی کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئی فون کے کوڈ کو توڑنے کا راستہ حکام کو بتائیں۔
امریکی شہری سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ سے متاثر ہو کر ریاست کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
یہ جوڑا حملے کے بعد پولیس سے مقابلے میں مارا گیا تھا اور حکام کو فاروق کے پاس سے ایک موبائل فون ملا تھا۔
ایف بی آئی کا خیال تھا کہ اس فون میں ان کے معاونوں کی معلومات تھیں۔ تاہم ایپل نے اپنے صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کو وجہ بنا کر ایف بی آئی کی مدد نہیں کی تھی۔ بعد میں اطلاعات آئی تھیں کہ ایف بی آئی نے ایک سیکیورٹی کمپنی کو اس فون سے معلومات نکالنے کے لیے دس لاکھ ڈالر دیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر سرگے سکوروبوگاتوف نے چار ماہ کی تحقیق کے بعد ایک ایسا راستہ نکال لیا ہے جس کے ذریعے وہ آئی فون کی میموری کی کاپی بنا سکتے ہیں اور اس کے بعد وہ پاس کوڈ کے لیے بے شمار کوششیں کر کے اسے توڑ سکتے ہیں۔ چار ہندسوں کے اس پاس کوڈ کو توڑنے میں انھیں چار گھنٹے لگتے ہیں۔
اپنے اس طریقے کی تفصیلات انھوں نے ایک ویڈیو میں یوٹیوب پر شائع کی ہیں۔







