جان مکیفی کاحملہ آور کا فون کھولنےکی پیشکش

اپنے مصزون میں جان مکیفی نے کہا کہ وہ فون کو اس لیے ’انلاک ‘ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ایپل کو کسی خفیہ طریقے سے آلہ کھولنے پر مجبور نا کیا جائے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناپنے مصزون میں جان مکیفی نے کہا کہ وہ فون کو اس لیے ’انلاک ‘ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ایپل کو کسی خفیہ طریقے سے آلہ کھولنے پر مجبور نا کیا جائے

اینٹی وائرس سافٹ ویئر کےخالق جان مکیفی نے کہا ہے کہ وہ سان بارنارڈینو کے حملہ آور کے آئی فون کے مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

’بزنس انسائڈر‘ کی طرف سے شائع کیے جانے والے ایک مضمون میں جان مکیفی نے ایف بی آئی اپنی خدمات کی پیشکش کی ہے۔

آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل نے امریکی عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے جس میں کمپنی کو سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق کے فون سے معلومات کے حصول میں ایف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا۔

جان مکیفی نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم یہ کام ’مفت میں کرنے کو تیار‘ ہیں۔

جان مکیفی نے یہ پیشکش اس وقت کی ہے جب وہ ’لبرٹیریئن پارٹی‘ کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار بننے کی امید میں مہمات چلا رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے مضمون میں کہا کہ ’یہ کام کرنے میں تین ہفتے لگیں گے۔‘

سکیورٹی کے ماہر گریہم کلولی نے بی بی سی کو بتایا کہ جان مکیفی کے دعوؤں پر انھیں شبہ ہے۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کوئی بھی خفیہ طریقہ متعارف کروانے سے تمام آئی فون مجرموں کی طرف سے ہیکنگ کا شکار بن سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کوئی بھی خفیہ طریقہ متعارف کروانے سے تمام آئی فون مجرموں کی طرف سے ہیکنگ کا شکار بن سکتے ہیں

انھوں نے کہا: دیگر آلوں کے مقابلے میں آئی فون کو ہیک کرنا انتہائی مشکل کام بتایا جاتا ہے۔‘

مثال کے طور پر گریہم کلولی نے جان مکیفی کے اس خیال پر شبے کا اظہار کیا کہ وہ ’سوشل انجنیئرنگ‘ کے ذریعے حملہ آور رضوان فاروق کے لاک کیے گئے آئی فون کا پاس کوڈ پتہ کر سکتے ہیں۔

یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ہیکرز لوگوں کے ’لاگ ان‘ کرنے کے معلومات دھوکے سے حاصل کرتے ہیں۔

گریہم کلولی نے کہا: ’مختصراً، مردہ لوگ کہانیاں نہیں گھڑتے ہیں۔ پتہ نہیں جان مکیفی ایک مردے سے اس کا پاس کوڈ کیسے اگلوائیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ویسے بھی ایف بی آئی کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں ہے، وہ تو بس ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے کوئی لاک نہیں ہونے چاہیے ہیں جن تک انھیں رسائی نہ حاصل ہو سکے۔‘

اپنے مضمون میں جان مکیفی نے کہا کہ وہ فون کو اس لیے ’ان لاک ‘ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ایپل کو کسی ’پیچھے کا دروازہ‘ یعنی خفیہ طریقے سے آلہ کھولنے پر مجبور کیا جائے۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کوئی بھی خفیہ طریقہ متعارف کروانے سے تمام آئی فون مجرموں کی طرف سے ہیکنگ کا شکار بن سکتے ہیں۔

دیگر ٹیک کمپنیوں نے ایپل کی حمایت کی ہے۔ گوگل کے سربراہ سندر پچائی نے پہلے سے ہی ٹم کک کی حمایت ظاہر کی تھی اور ایک دن قبل ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ایپل کے حق میں اپنی حمایت ظاہر کی۔