سان برنارڈینوحملہ آور کے بھائی کےگھر کی تلاشی

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق کے بھائی کے گھر کی تلاشی لی ہے۔

امریکی شہری سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ سے متاثر ہو کر ریاست کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

یہ جوڑا حملے کے بعد پولیس سے مقابلے میں مارا گیا تھا اور حکام کو فاروق کے پاس سے ایک موبائل فون ملا تھا۔

ایف بی آئی نے راخیل فاروق کے گھر کی تلاشی لی لیکن انھیں نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ انھیں مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔

رضوان فاروق کے بھائی راحیل فاروق فوج کے ایک ماہر ہیں اور انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی تمغے حاصل کیے ہیں۔

ایف بی آئی کی ترجمان نے اس حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے تاہم انھوں نے بتایا کے دورانِ تفتیش راحیل فاروق کے گھر کی تلاشی لی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق کم سے کم ایک درجن ایف بی آئی کے اہلکار راحیل فاروق کے گھر سے کمپیوٹر، لفافے اور کاغذات کا پلندہ ساتھ لے گئے ہیں۔

اس سے پہلے اس مجرم جوڑے کے ایک دوست کو حراست میں لیا تھا

،تصویر کا ذریعہABC News

،تصویر کا کیپشناس سے پہلے اس مجرم جوڑے کے ایک دوست کو حراست میں لیا تھا

ان کے ہمسائیوں کے مطابق راحیل فاروق اور ان کی اہلیہ اچھے ہمسائے ہیں اور محلے داروں کو ان سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

ان کے ایک ہمسائے نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا: ’میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی طرح ملوث رہے ہوں۔ میرے خیال میں اگر آپ کا کوئی رشتہ دار ہے تو آپ کو اس زندگی پر اختیار نہیں ہوتا اور میرا خیال ہے کہ انھیں اپنے بھائی کی زندگی پر بھی کوئی اختیار نہیں تھا۔‘

ہمسائیوں کے مطابق یہ دوسری مرتبہ ہے کہ راحیل فاروق کے گھر کی تلاشی لی گئی ہو۔

اس سے پہلے اس مجرم جوڑے کے ایک دوست کو حراست میں لیا تھا۔ محکمۂ انصاف کے مطابق اینریک مارکیز نامی شخص پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کرنے اور اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی غیرقانونی خریداری کے الزامات عائد کیے گئے۔

اتنریک اس جوڑے کے سابق ہمسائے اور دوست تھے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں رضوان اور تاشفین کے حملہ کرنے کے کسی منصوبے کا علم نہیں تھا۔