17 لاکھ سال قدیم انسان میں سرطان کے شواہد

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھیں جنوبی افریقہ کی ایک غار سے ملنے والے ایک قدیم انسانی فوسل سے سرطان کے اولین شواہد ملے ہیں۔
تقریباً 17 لاکھ سال پرانے ایک قدیم انسان کے پاؤں کی انگلیوں میں تیزی سے بڑھنے والی رسولی کے شواہد ملے ہیں۔
یہ پاؤں کی ہڈی ایک ابتدائی دور کے انسان کی ہے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کا شمار سائنسی اصطلاح میں ہومو اوگیسٹر یا پرانتھروپس روبسٹس میں ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کے دعوؤں کے برعکس سرطان دور جدید میں نمودار ہونے والی بیماری نہیں ہے۔
اس سے قبل بھی دریافت ہونے والی انسانی باقیات میں رسولیاں مل چکی ہیں جن میں ایک لاکھ 20 ہزار سال قبل روئے زمین پر بسنے والی نینڈرٹل انسانوں میں ملنے والی رسولیاں سب سے قدیم سمجھی جاتی ہیں۔
حالیہ دریافت جوہانسبرگ کے قریب سوورٹکرانس کی غار سے ملی ہے۔
ساؤتھ ایفریقن جرنل آف سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پاؤں کے اس حصے میں ایک جان لیوا ہڈیوں کا سرطان موجود تھا۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
اگرچہ سرطان کی بیماری مختلف نسل کے جانوروں میں پائی گئی ہے تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک جدید مسئلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی آف وٹواٹرزرینڈ کے محقق ایڈورڈ اوڈز کا کہا ہے کہ ’جدید میڈیسن میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسانوں میں سرطان اور رسولیوں کی بیماریاں جدید طرز زندگی اور ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہماری تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان بیماریوں کی بنیادیں لاکھوں سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد میں موجود تھیں جب جدید صنعتی معاشروں کا وجود بھی نہیں تھا۔‘
یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر کے ڈاکٹر پیٹرک رنڈولف کوینی نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’یہ خیال کہ سرطان حال ہی میں سامنے آئے ہیں مصر کی ممیوں پر کیے جانے والے کام کی بنیاد پر ظاہر کیا جاتا ہے جس میں وہ ایکسریز کے ذریعے سرطانوں کے شواہد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید طرز زندگی سے رسولیوں کے پیدا ہونے کا خطرہ ضرور بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الکوحل سے جگر کا سرطان اور تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں سرطان جدید دور کی بیماریاں ہیں۔







