’چہرے پر کیل مہاسے تشویش کی علامت ہیں ‘

مہاسوں سے متاثرہ چہرے کی میک اپ اور فوٹو شاپ سے تبدیل شدہ پہلے اور بعد کی تصویر

،تصویر کا ذریعہThinkStock

،تصویر کا کیپشنمہاسوں سے متاثرہ چہرے کی میک اپ اور فوٹو شاپ سے تبدیل شدہ پہلے اور بعد کی تصویر

فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ کیل مہاسوں کا شکار لوگوں کا مذاق اڑائے جانے اور چہرے پر رسوائی کے داغوں کی حیثیت اختیار کر جانے کے باوجود اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

بدہیت چہروں کے لیے کام کرنے والے فلاحی ادارے ’چینجنگ فیس‘ کے بانی جیمز پارٹریج کا کہنا ہے کہ رویوں کو بڑے پیمانے پر بدلے کی ضرورت ہے۔

’ہمیں چاہیے کہ ہم احترام کریں، لوگوں کی مدد کریں تاکہ وہ خود کو کمتر اور داغی نہ سمجھیں۔‘

جمیز کا کہنا تھا کہ ’ہر سال ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ لوگ مہاسوں کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو کر خود کشی کرتے ہیں۔ خود کو نقصان پہنچانا بھی بہت عام ہے۔‘

برٹش سکن فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ بیماری جان لیوا نہیں ہے اس لیے تحقیق اور پیسہ دیگر شعبوں میں لگایا جاتا ہے۔

ادارے کی ترجمان اور کنسلٹنٹ ڈرماٹالوجسٹ ڈاکٹر انجلی مہتا کا کہنا ہے کہ ’غیر متوازن جلد کی بیماریوں کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ‘

’چونکہ اس مسئلے سے آپ مرتے نہیں ہیں اس لیے اس کا علاج ترجیحات میں سب سے آخر میں چلا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر انجلی خود بھی مہاسوں کا شکار رہ چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہBRITISH SKIN FOUNDATION

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر انجلی خود بھی مہاسوں کا شکار رہ چکی ہیں

مہاسوں کا شکار لوگوں کو عموماً سرسری دیکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ایسے ہی رہنے کو کہا جاتا ہے یا یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا ہی رہے گا۔

ڈاکٹر مہتا کا کہنا تھا کہ ’میں نے دیکھا ہے کہ اکثر ایسے مریض لوگوں سے نظریں نہیں ملاتے۔ کئی لوگ بال بڑھا لیتے ہیں تاکہ ان کی مدد سے چہرے کو چھپا سکیں۔ کئی لوگ باہر جانا بند کر دیتے ہیں۔ وہ کام پر یا سکول میں نہیں جاتے۔‘

مہاسوں کا نفسیاتی اثر اس کی وجہ سے پڑنے والے داغوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر انجلی مہتا کہتی ہیں: ’آپ اس سوچ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں کہ آپ ایک داغدار نوجوان ہیں۔ جسم کا ایک منفی تاثر برسوں تک آپ کے ساتھ چلتا ہے۔‘

مائیکل ویلوکس کئی برسوں تک شدید مہاسوں کا شکار رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سکولوں میں جِلد کے مسائل پر عموماً بات کی جائے۔ ان کے خیال میں اس سے جِلد کے مسائل کا شکار نوجوانوں کو مدد ملے گی۔

جورڈن گرے کے بقول انھیں آئینہ دیکھ کر برا لگتا تھا
،تصویر کا کیپشنجورڈن گرے کے بقول انھیں آئینہ دیکھ کر برا لگتا تھا

ان کے ایک پروجیکٹ ’سکول ڈرم ٹائم‘ کا مقصد اساتذہ کو بتانا ہے کہ کیس طرح مہاسے رویوں کو متاثر کرتے ہیں۔‘

سکول کے زمانے میں انھوں نے ہر بات دل میں ہی رکھی کیونکہ انھیں لگا کہ کوئی ان کی بات سمجھے گا نہیں۔

’خود کو دیکھ کر برا لگتا تھا‘

22 سالہ جورڈن گرے کو سکول کے دنوں میں مہاسوں کا شکار تھے۔

’جب ہم چینجنگ روم میں جاتے تو بچے مجھ سے پوچھتے تمہیں کیا ہوا ہے؟ مجھے یہ توہین آمیز لگتا تھا۔

’میں نے باہر جانا چھوڑ دیا۔ میں خود کو آئینے میں دیکھتا تو مجھے برا لگتا تھا۔ میرا چہرہ داغوں سے بھرا اور گندہ لگتا تھا۔‘

جورڈن کی حالیہ تصویر

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجورڈن کی حالیہ تصویر

ان کا خیال ہے کہ اگر ان کے اساتذہ کے پاس مہاسوں کے بارے میں بہتر معلومات ہوتیں تو ان کے لیے مددگار ہوتا۔

کیٹی گیلوری بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔

’اگر ہمیں یہ پڑھایا جاتا کہ مہاسوں کی کیا وجوہات ہیں اور یہ بھی کسی دوسری بیماری کی طرح ایک طبی مسئلہ ہے، تو لوگ کبھی بھی اس بارے میں منفی باتیں نہیں کرتے۔‘

اب وہ اپنی جلد کے لیے بہت خوش ہیں۔

’جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی محھے احساس ہوا کہ زندگی میں آپ کی جلد کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب مجھے لگا کہ میں اپنی جلد کے بارے میں ہمیشہ برا محسوس کرتی ہوں۔ میں اس کی وجہ سے ہمیشہ پریشان ہوتی ہوں۔‘

کیٹی کا کہنا ہے کہ یہ بتایا جانا چاہیے کہ مہاسے بھی کسی دوسری بیماری کی طرح ایک طبی مسئلہ ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکیٹی کا کہنا ہے کہ یہ بتایا جانا چاہیے کہ مہاسے بھی کسی دوسری بیماری کی طرح ایک طبی مسئلہ ہے

جوش سپیئر کو پرائمری سکول میں مہاسے ہو گئے تھے اور یہ 14 برس کی عمر تک رہے۔

’میں آپ کو اپنے مہاسوں کے دور کی کوئی تصویر ضرور دکھاتا لیکن میں نے یہ یقینی بنایا کہ اس دوران کوئی تصویر نہ بنے۔‘

اساتذہ کو ایسے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کیے جانے کی علامات پر غور کرنا چاہیے۔ میرے سکول میں میرے بارے میں کئی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ جیسے کہ جوش صاف نہیں ہے، وہ نہاتا نہیں، یہ سب سچ نہیں تھا۔‘

15 سالہ چلوئے کارڈف کے سکول میں پڑھتی ہیں۔ گو کہ ان کے دوست اور خاندان والی کافی تعاون کرتے ہیں لیکن ان کا بھی خیال ہے کہ سکولوں میں جِلد کے بارے میں پڑھائے جانے سے برے جملوں سے چھٹکارا ملے گا۔

’میرا خیال ہے کہ اس بارے میں سبق میں سیکھنا، یہ بتانا کہ انھیں کیا چیز فائدہ دے گی اور مہاسوں سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے یہ سب فائدہ مند ہے۔‘

چلوئے کا بھی خیال ہے کہ سکولوں میں جِلد کے بارے میں پڑھائے جانے سے برے جملوں سے چھٹکارا ملے گا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنچلوئے کا بھی خیال ہے کہ سکولوں میں جِلد کے بارے میں پڑھائے جانے سے برے جملوں سے چھٹکارا ملے گا

ڈاکٹر انجلی مہتا کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ اگر لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے تو انھیں مدد تلاش کرنی چاہیے۔

’اگر ایکنی سے خود اعتمادی، بے چینی اور ڈپریشن کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر یہ آپ کو وہ سب کرنے سے روک رہی ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو طبی مدد کی ضرورت ہے۔‘

’چینجنگ فیس‘ کے بانی جیمز پارٹریج کہتے ہیں کہ مہاسوں کا شکار لوگوں کا خیال کرنے لے لیے ایک راستہ ہونا چاہیے۔

ان کے بقول ’چینجنگ فیس‘ کے پریکٹیشنرز ہیں، کونسلرز ہیں جن کی تربیت ہی لوگوں کی مدد کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ ہمارا خیال ہے یہ پورے ملک میں میسر ہونے چاہییں تاکہ لوگ مہاسوں کے نفسیاتی مسائل سے نمٹ سکیں۔‘