ڈرون نے سیکس ورکر کو پکڑوا دیا

،تصویر کا ذریعہThinkstock
امریکی ریاست اوکلاہوما میں ایک خاتوں نے مقامی ’ڈرون وِجیلانٹی‘ (خدائی خدمت گار) کی جانب سے بنائی جانے والی فلم کے سامنے آنے کے بعد غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔
برائن بیٹس نے گذشتہ سال اگست میں ڈرون طیارے کے ذریعے ایک مرد اور امینڈا زولیکفر کے درمیان جسمانی رابطے کی فلم بنائی تھی۔
بیٹس کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب انھوں نے اس قسم کے کسی واقعے کو ڈرون کے ذریعے فلم بند کیا۔
دوسری جانب شہری آزادی کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے ذریعے فلم بندی سے عام لوگوں کی ذاتی زندگی متاثر ہونے کے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔
بی بی سی کے سامنے آنے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق زولیکفر کو اس جرم میں ایک سال کی سزا ہوئی ہے۔

زولیکفر کے مبینہ گاہک کو دسمبر میں گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا جبکہ ان کے خلاف مقدمہ ابھی زیرالتوا ہے۔
کھڑی ہوئی گاڑی کے اندر دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی ملاقات کی ویڈیو فلم بیٹس نے اوکلاہوما کی پولیس کو مہیا کی تھی۔
بیٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اوکلاہوما شہر میں لوگ مجھے جانتے ہیں۔ گذشتہ 20 سالوں کے دوران میں نے سڑکوں پر اور زبردستی ہونے والے جسم فروشی کے کاروبار، اور انسانی سمگلنگ کو ویڈیو کیمرے کے ذریعے فلم بند کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیٹس کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کو ڈرون کے ذریعےعکس بند کرتے وقت انھوں نے خود کو محفوظ تصور کیا تھا اور وہ ’بہت اچھی تصاویر‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
بیٹس ایک ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں جس پر وہ مبینہ جسم فروشوں اور ان کے گاہکوں کی ویڈیو شائع کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ لوگ جو ممکنہ طور پر منشیات، جسم فروشی، یا پھر علاقے کے غنڈوں کے خلاف ڈرون استعمال کرنے کے خواہش مند ہیں میں ان سب کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں۔ اگر صورت حال ذرا بھی آپ کے حق میں نہ ہوئی تو آپ کو مجرمانہ اقدامات کے الزامات یا ہرجانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
برطانیہ کی انسانی حقوق کی تنظیم اوپن رائٹس گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جم کلوک کہتے ہیں ’وہ لوگ جو ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں انھیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ان کے پاس لوگوں کی خلوت میں مداخلت کرنے کی معقول وجہ ہے۔ (مثال کے طورپر) عوامی مقامات کے مقابلے میں کسی کی ذاتی ملکیت کی فلم بندی کرنے میں بہت فرق ہے۔‘
کلوک نے ڈرون طیاروں کے مالکان کو عکس بندی کے حوالے سے درپیش چند اہم معاملات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اور روایتی طریقے سے تصویر کشی میں بہت کم فرق ہے۔ ’ٹیکنالوجی مختلف ہو سکتی ہے تاہم دونوں کا ضابطہ اخلاق بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔‘







