یوگنڈا کے وزیر کا ’لنچ ٹائم سیکس‘ پر حملہ

سائمن لوکوڈو
،تصویر کا کیپشنسائمن لوکوڈو پہلے بھی اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں

یوگنڈا کے اخلاقیات کے وزیر جن کے پہلے بھی منی سکرٹس اور ہم جنس پرستی پر بیانات سے کافی ہنگامہ ہوا تھا ایک مرتبہ پھر اپنے ’لنچ ٹائم سیکس‘ (دوپہر کے کھانے پر سیکس) کے بیان سے خبروں میں آ گئے ہیں۔

فادر سائمن لوکوڈو نے کہا ہے کہ وہ پولیس سے کہیں گے کہ وہ گیسٹ ہاؤسز پر چھاپے مارے جہاں بقول ان کے لوگ دوپہر کے کھانے کے بہانے سیکس کرنے جاتے ہیں۔

یوگنڈا کے اکثر لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا پولیس کو اس کام کے لیے استعمال کرنا کوئی اچھی حکمتِ عملی ہے؟

ٹوئٹر پر ہیریت نابدیرے کہتے ہیں کہ وزیر کو چاہیے کہ وہ پہلے دوسری بڑی غیر اخلاقی چیزوں جیسا کہ رشوت، کرپشن، غیر قانونی حراست اور سکولوں میں گندگی وغیرہ کے مسائل سے نمٹیں۔

یوگنڈا میں لنچ ٹائم سیکس ایک عام لطیفہ بھی بن گیا ہے۔ لوگ اس بات پر ہنستے ہیں کہ کس طرح چھوٹے گیسٹ ہاؤسز غیر ازدواجی تعلقات کی جگہ بن گئے ہیں۔

گذشتہ برس سائمن کولوڈو کے بیان پر ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس سائمن کولوڈو کے بیان پر ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا

فادر سائمن اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں اور یوگنڈا کے افراد ان کی بات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں سنتے۔

اس سے پہلے انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ وہ ہوٹلوں کے ٹائلٹ سے مفت کونڈوم لے جاتے ہیں کیونکہ ان کی موجودگی کی وجہ سے جنسی میل ملاپ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

وہ کونڈومز ایچ آئی وی ایڈز کے خلاف ایک مہم کا حصہ تھے تاکہ ملک میں ایچ آئی وی انفیکشن کو کم کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ یوگنڈا میں 7.4 فیصد لوگ ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

سنہ 2013 میں جب انھوں نے کہا کہ منی سکرٹس پر پابندی ہونی چاہیے تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم ہو گئی تھی۔ انھوں نے چند غیر سرکاری تنظیموں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہم جنس پرستی کی تشہیر کر رہی ہیں اس لیے ان پر پابندی لگانی چاہیے۔

انھوں نے اپنے دفاع میں کہا کہ وہ کرپشن جیسے موضوعات پر بھی بولتے ہیں لیکن کوئی ان پر کچھ نہیں لکھتا کیونکہ ان سے شہ سرخیاں نہیں بنتیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ خاندانی اقدار کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں جو یوگنڈا کے مستقبل کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔

مذاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ بطور کابینہ کے ایک وزیر کے وہ ایسے قوانین کے لیے تجویز دے سکتے ہیں جن سے لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔

انھوں نے عریانی کے خلاف قانون کے لیے بھی مہم چلائی تھی جس کا مقصد عوام میں نازیبا حرکات کو روکنا ہے۔

انھوں نے ڈانسرز کے خلاف بھی یہ کہتے ہوئے مہم چلائی کہ وہ بہت پرشہوت ڈانس کرتی ہیں۔