زمین بچانے کے لیے برہنہ احتجاج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شمالی یوگنڈا میں خواتین کے ایک گروہ نے اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے ایک ایسی حرکت کی جو معاشرے میں بہت معیوب سمجھی جاتی ہے۔
دو حکومتی وزرا، فوجیوں، پولیس والوں اور برادری کے ہزاروں لوگوں کے سامنے خواتین نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔
پہلے انھوں نے اپنے ٹاپ اتارے اور اس کے بعد ان میں سے کچھ خواتین نے اپنی سکرٹیں بھی اتار ڈالیں اور بالکل برہنہ حالت میں سب کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔
’لوبووا‘، ’لوبووا‘ وہ چلائیں، جس کا ان کی زبان میں مطلب ہے ’میری زمین‘۔
باقی بیٹھی رہیں لیکن انھوں نے ان عورتوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر نعرے لگائے۔
یہ واقع آمورو ڈسٹرکٹ کے آپا گاؤں میں پیش آیا جہاں مقامی برادری اور انتظامیہ کے درمیان زمین پر لمبے عرصے سے ایک تنازع چل رہا ہے۔
اس دن دو حکومتی وزرا سرویئرز کے ساتھ آئے تھے اور ان کا منصوبہ اس زمین پر نشانات لگانے کا تھا جہاں وہ خواتین رہتی تھیں۔
لیکن انھوں نے جو وہاں دیکھا وہ اس سے حیران رہ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شمالی یوگنڈا کے اچولی قبیلوں میں عورتوں کے سب کے سامنے ننگے ہونے کا ایک خاص مطلب ہے۔
اسے لڑائی سے بھی زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح کے عمل سے خواتین اپنے دشمنوں پر سب سے بری لعنتیں بھیجتی ہیں۔
زمین پر یہ تنازع گذشتہ دس سال سے جاری ہے۔
یوگنڈا وائلڈ لائف اتھارٹی سمجھتی ہے کہ آپا برادری اور ہزاروں دیگر افراد شکار کے لیے رکھی گئی جگہ پر قبضہ کر رہے ہیں۔
جبکہ برادری اس سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ اس کی زمین ہے۔
جن ڈیڑھ درجن عورتوں نے اس روز کپڑے اتارے وہ یہ صرف زمین کے لیے نہیں کر رہی تھیں بلکہ یہ ان زیادتیوں کے خلاف احتجاج بھی تھا جن کا سامنا وہ کئی برسوں سے کر رہی تھیں۔
58 سالہ مگدالینا نے مجھے بتایا کہ 2012 میں حکام نے ان کے بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
’میں نے اس لیے کپڑے اتارے ہیں کیونکہ مجھے بہت دکھ پہنچایا گیا ہے، میرے بچے اولانیہ کو قتل کر دیا گیا۔‘
’اور اب وہ واپس آئے ہیں ہمیں ہماری زمین سے لینے۔‘
یوگنڈا وائلڈ لائف اتھارٹی 827 مربع کلومیٹر علاقے کی حد بندی کرنا چاہتی ہے اور آپا اس زمین کے ایک سرے پر بیٹھے ہیں۔
حکومت کو ابھی تک یہ بھی درست طریقے سے نہیں معلوم کہ اس زمین پر کتنے لوگ آباد ہیں۔







