یوگینڈا: دو فوجی ہیلی کاپٹر ’لاپتہ‘ہو گئے

،تصویر کا ذریعہap
افریقی ملک یوگینڈا میں فوج کا کہنا ہے کہ ان دو ہیلی کاپٹروں کی تلاش جاری ہے جو کہ ’لا پتہ‘ ہو گئے ہیں۔
یہ ہیلی کاپٹر ان چار ہیلی کاپٹروں کا حصہ تھے جنہیں کینیا میں اترنا تھا تاہم ان میں صرف ایک اپنی منزل گریسا شہر پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔
کینیا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک اور ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے ماؤنٹ کینیا سے ان سے رابطہ کیا ہے۔
ہیلی کاپٹروں کا یہ دستہ صومالیہ میں افریقی یونین کے امن مشن کی امداد کے لیے بھیجا گیا تھا۔
کینیا کی وزارتِ دفاع کے نمائندے بوگیٹا اونگیری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ پائلٹ جس نے کینیا کی وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے، اپنے ہیلی کاپٹر کو حفاظت سے اتارنے میں کامیاب ہو گیا تھا یا اس کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔
اونگیری نے مزید کہا کہ فوج نے بری اور فضائی تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، لیکن وہ خراب موسم کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹوں پر کتنے افراد سوار تھے۔
یوگینڈا کی فوج کے ترجمان فیلکس کولیگے نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ’تلاش ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت واقعے کی تفصیلات واضح نہیں مگر ہم اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوگینڈا کے فوجی افریقی یونین کی امن فوج کا حصہ ہیں جو کہ صومالیہ میں مذہبی شدت پسند اور القاعدہ کے حامی گروہ الشباب کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔
افریقی یونین کی فورسز الشباب کے خلاف ایک سخت تر آپریشن اس ماہ کے آخر میں کرنے کی منصوبہ بندی کرتی رہی ہیں۔
یوگینڈا اس امن فوج میں سب سے زیادہ فوجی بھیجتا ہے جس کی وجہ سے الشباب سے نے یوگینڈا میں بہت سے حملے کیے ہیں۔ سنہ دو ہزار دس میں فٹ بال کے عالمی کپ کا فائنل دیکھنے کی ایک تقریب میں دو خود کش حملہ آوروں نے دھماکے کیے تھے جس میں چھہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







