مریخ پر میتھین کی تحقیق کا خلائی مشن روانہ

،تصویر کا ذریعہEPA
یورپ اور روس نے مریخ پر ایک مشترکہ خلائی مشن بھیجا گیا ہے جس کا مقصد وہاں کی فضا میں موجود میتھین گیس کے ماخذ کا پتہ چلانا ہے۔
ایکسومارس ٹریس گیس آربیٹر (ٹی جی او) قزاقستان کے معروف بیکانور کوسموڈروم سے خلا میں بھیجا گیا ہے۔
اس مشن میں ایک پروٹون راکٹ سرخ سیارے کی جانب بھیجا جا رہا ہے جو اس بات کا پتہ چلائے گا کہ آیا وہاں کی فضا میں میتھین ارضیاتی ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے یا مائیکروبز کے ذریعے پیدا ہو رہی ہے۔
کنڑولرز کو پیر کی شب سگنلز موصول ہوئے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ اچھی حالت میں ہے۔
یورپی خلائی ادارے کے میکا شمڈ نے جرمنی میں ادارے کے آپریشنز سینٹر سے اعلان کیا کہ ’ہمیں اے او ایس ملے، سگنل موصول ہوئے، یہ ہمارا مشن ہے۔ اور دوسری مرتبہ، یورپ مریخ پرجارہا ہے، چنانچہ، آگے بڑھے، آگے بڑھو، آگے بڑھو! ایکسومارس!‘
یورپیئن سپیس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل جان وؤرنر کا کہنا تھا کہ ’ہم مریخ کی جانب جا رہے ہیں اور یہ ایک اچھا تجربہ ہے کہ ایسے متاثر کن مشن کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ آئیے مریخ کی جانب آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اگر یہ مشن کامیاب رہا تو یہ دو خلائی طاقتیں وہاں خلائی گاڑی بھیجیں گی جسے برطانیہ میں تیار کیا جا رہا ہے اور یہ مریخ کی سطح کو کھود کر تحقیق کرے گی۔یہ خلائی مشن سنہ 2018 تک یا پھر 2020 تک بھیجا جا سکتا ہے۔
زمین سے مریخ تک کا فاصلہ 50 کروڑ کلومیٹر اور وہاں تک پہنچنے میں سات ماہ لگ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ٹی جی او زمین کی مناسبت سے 33 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرے گا۔
اس پرواز میں کئی مراحل ہیں اور یہ خلائی مشن کے اہلکاروں کے لیے دباؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔
روس کے لیے یہ سرخ سیارہ بدبختی کی منزل ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نے اس سیارے کے لیے 19 مشن روانہ کیے لیکن ان میں سے بیشتر ناکام رہے۔
بہت سے زمین کے مدار سے نہیں نکل سکے اور پھر واپس گر گئے، کئی مریخ پر گرکر تباہ ہو گئے اور کئی مریخ سے آگے نکل گئے۔







