مریخ پر میتھین کی تحقیق کا مشن روانگی کے لیے تیار

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپ اور روس پیر کو مریخ پر ایک مشترکہ خلائی مشن بھیج رہے ہیں جس کا مقصد وہاں کی فضا میں موجود میتھین گیس کے ماخذ کا پتہ چلانا ہے۔
اس سلسلے میں ایک پروٹون راکٹ سرخ سیارے کی جانب بھیجا جا رہا ہے جو اس بات کا پتہ چلائے گا کہ آیا وہاں کی فضا میں میتھین ارضیاتی ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے یا مائیکروبز کے ذریعے پیدا ہو رہی ہے۔
اگر یہ مشن کامیاب رہا تو یہ دو خلائی طاقتیں وہاں خلائی گاڑی بھیجیں گی جسے برطانیہ میں تیار کیا جا رہا ہے اور یہ مریخ کی سطح کو کھود کر تحقیق کرے گی۔
یہ خلائی مشن سنہ 2018 تک یا پھر 2020 تک بھیجا جا سکتا ہے۔
ایکسومارس ٹریس گیس آربیٹر (ٹی جی او) قزاقستان کے معروف بیکانور کوسموڈروم سے پیر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تین بج کر 31 منٹ پر چھوڑا جائے گا۔
سیٹلائٹ کو لے جانے والے راکٹ کو مریخ کے مدار میں صحیح جگہ پر چھوڑنے کے لیے دس گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگے گا۔
یہ ٹی جی او زمین کی مناسبت سے 33 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
اس پرواز میں کئی مراحل ہیں اور یہ خلائی مشن کے اہلکاروں کے لیے دباؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روس کے لیے یہ سرخ سیارہ بدبختی کی منزل ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نے اس سیارے کے لیے 19 مشن روانہ کیے لیکن ان میں سے بیشتر ناکام رہے۔
بہت سے زمین کے مدار سے نہیں نکل سکے اور پھر واپس گر گئے، کئی مریخ پر گرکر تباہ ہو گئے اور کئی مریخ سے آگے نکل گئے۔
اگر سب کچھ امید کے مطابق ہوتا ہے تو جرمنی میں قائم یورپی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ جب ٹی جی او بریز بوسٹر سٹیج سے نکلے گا تو یہ ایک سگنل دے گا۔
یہ سگنل گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بج کر 28 منٹ پر آئے گا اس کے بعد یہ مریخ پر سات مہینے کی مہم ہوگی۔







