مریخ پر میتھین کی تحقیق کا مشن روانگی کے لیے تیار

یہ پیر کو قزاقستان کے خلائی سٹیشن سے تین بج کر 31 منٹ پر لانچ کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ پیر کو قزاقستان کے خلائی سٹیشن سے تین بج کر 31 منٹ پر لانچ کیا جا رہا ہے

یورپ اور روس پیر کو مریخ پر ایک مشترکہ خلائی مشن بھیج رہے ہیں جس کا مقصد وہاں کی فضا میں موجود میتھین گیس کے ماخذ کا پتہ چلانا ہے۔

اس سلسلے میں ایک پروٹون راکٹ سرخ سیارے کی جانب بھیجا جا رہا ہے جو اس بات کا پتہ چلائے گا کہ آیا وہاں کی فضا میں میتھین ارضیاتی ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے یا مائیکروبز کے ذریعے پیدا ہو رہی ہے۔

اگر یہ مشن کامیاب رہا تو یہ دو خلائی طاقتیں وہاں خلائی گاڑی بھیجیں گی جسے برطانیہ میں تیار کیا جا رہا ہے اور یہ مریخ کی سطح کو کھود کر تحقیق کرے گی۔

یہ خلائی مشن سنہ 2018 تک یا پھر 2020 تک بھیجا جا سکتا ہے۔

ایکسومارس ٹریس گیس آربیٹر (ٹی جی او) قزاقستان کے معروف بیکانور کوسموڈروم سے پیر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تین بج کر 31 منٹ پر چھوڑا جائے گا۔

سیٹلائٹ کو لے جانے والے راکٹ کو مریخ کے مدار میں صحیح جگہ پر چھوڑنے کے لیے دس گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگے گا۔

یہ ٹی جی او زمین کی مناسبت سے 33 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرے گا۔

کئی مرحلے میں یہ مریخ کے مدار میں پہنچے گا

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنکئی مرحلے میں یہ مریخ کے مدار میں پہنچے گا

اس پرواز میں کئی مراحل ہیں اور یہ خلائی مشن کے اہلکاروں کے لیے دباؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔

روس کے لیے یہ سرخ سیارہ بدبختی کی منزل ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نے اس سیارے کے لیے 19 مشن روانہ کیے لیکن ان میں سے بیشتر ناکام رہے۔

بہت سے زمین کے مدار سے نہیں نکل سکے اور پھر واپس گر گئے، کئی مریخ پر گرکر تباہ ہو گئے اور کئی مریخ سے آگے نکل گئے۔

اگر سب کچھ امید کے مطابق ہوتا ہے تو جرمنی میں قائم یورپی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ جب ٹی جی او بریز بوسٹر سٹیج سے نکلے گا تو یہ ایک سگنل دے گا۔

یہ سگنل گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بج کر 28 منٹ پر آئے گا اس کے بعد یہ مریخ پر سات مہینے کی مہم ہوگی۔