فیس بک ’نایاب جانوروں کی آن لائن منڈی‘

نایاب نسل کے جانور بنٹورگ کے بچے بھی غیر قانونی طور پر فیس بک پر فروخت کیے جارہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشننایاب نسل کے جانور بنٹورگ کے بچے بھی غیر قانونی طور پر فیس بک پر فروخت کیے جارہے ہیں

ماہرین ماحولیات اس بات سے پریشان ہیں کہ فیس بک نایاب نسل کے جانوروں کی تجارت کے لیے ایک آن لائن منڈی بن گیا ہے۔

جنگلی حیات کی حفاظت کرنے والی تنظیم ٹریفک کے مطابق ملائیشیا میں سینکڑوں کے قریب نایاب جانور جن میں ریچھ کی ایک خاص قسم، لنگور اور ریچھ نما بلیاں شامل ہیں فیس بک پر فروخت کیے جارہے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر قانونی تجارت دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ انھیں اس قسم کی تجارت کو فروغ دینے والے مواد کو ویب سائٹ سے ہٹانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

تحقیق کاروں نے پانچ ماہ تک روزانہ30 منٹ 14 فیس بک گروپ کی نگرانی کرنے کے بعد معلوم کیا ہے کہ 300 سے زیادہ جنگلی زندہ جانوروں کو پالتو جانوروں کے طور پر بیچا جارہا ہے۔

تنظیم سے تعلق رکھنے والی اور تفتیشی رپورٹ کی مصنف سارہ سٹون کا کہنا ہے کہ ’ہم نے 236 ایسی پوسٹوں کو شناخت کیا جہاں 106 مختلف لوگ اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک پر یہ کاروبار کتنی وسعت اختیار کرتا جارہا ہے۔‘

تحقیق کاروں کا کہن ہے کہ ملائیشیا میں اس طرح کی آن لائن تجارت حیرت کی بات ہے کیونکہ ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح ملائیشیا میں جنگلی جانوروں کو بیچنے کے لیے کھلی منڈیاں موجود نہیں ہیں۔

سفید سر والا گبون بھی فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہTraffic

،تصویر کا کیپشنسفید سر والا گبون بھی فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے

سارہ سٹونر کا کہنا ہے کہ ’ملائیشیا میں ان جانوروں کی طلب ہمیشہ سے موجود تھی لیکن اس کو کبھی کاروبار کی شکل میں فروغ نہیں دیا گیا جبکہ انٹرنیٹ اور فیس بک نے اس غیر قانونی کاروبار کو ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔‘

فیس بک پر بیچی جانے والے ان جانورں میں تقریباً نصف اقسام نایاب تھیں اور جن کی فروخت ملیشیا کے قانون کے تحت ایک جرم ہے۔ ان میں سے 69 جانورں میں سے 25 ایسےتھے جو ملائیشیا میں نہیں پائےجاتے اور نایاب نسل کےجانورں کی تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت ان کی تجارت غیر قانونی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی تفتیش کی تمام تفصیلات فیس بک کو بھیج دی ہیں جو اس تجارت کو ختم کرنے کے لیے قابل عمل حل تلاش کررہے ہیں۔

فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم ٹریفک کے ساتھ مل کر ملیشیا میں جنگلی حیات کی اس غیر قانونی آن لائن تجارت پر قابو پانے کے لیے پر عزم ہیں۔‘

’فیس بک نایاب جانوروں کی فروخت اور تجارت کی اجازت نہیں دے سکتی اور ہم اپنی شرائط کے خلاف کسی بھی مواد کو ہٹانے میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیں گے۔‘

تنظیم نے اپنی معلومات ملیشیا کے حکام کو بھی فراہم کردی ہیں۔

ملیشیا میں شعبہ جنگلی حیات اور قومی تفریح گاہ سے تعلق رکھنے والے حسنان یوسوپ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں نے 2013 سے فیس بک پر ایسے گروپ بنائے ہوئے ہیں جہاں جنگی جانوروں کی فروخت جاری ہے۔

’ہم نے 43 کامیاب کاروائیوں کے بعد 54 غیر قانونی تاجروں کو گرفتار کرلیا ہے اور 67 سے زیادہ نایاب جانوروں کی غیر قانونی تجارت روک دی ہے۔‘

پگ ہیڈ ٹرٹل کا شمار کچھوؤں کی نایاب نسل میں ہوتا ہے جو ملائیشیا میں آن لائن فروخت کے لیے پیش کیے جارہے ہیں

،تصویر کا ذریعہTraffic

،تصویر کا کیپشنپگ ہیڈ ٹرٹل کا شمار کچھوؤں کی نایاب نسل میں ہوتا ہے جو ملائیشیا میں آن لائن فروخت کے لیے پیش کیے جارہے ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ 'ہم ایک سخت قسم کی ہدایات بھی جاری کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت اس غیر قانونی کام میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔'

تنظیم کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز کے استعمال کا مطلب ہے کہ ہر کوئی جو جنگلی حیات بیچنے میں دلچسپی رکھتا ہے وہ بیک وقت ہزاروں خریداروں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

ان کو پریشانی ہے کہ ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں غیر قانونی تجارت کی منڈیاں کھول دی ہیں۔

سارہ سٹونز کا کہنا ہے کہ ’حالانکہ ہماری معلومات ملیشیا میں جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے بارے میں ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلے کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔‘