جانوروں کی طرز پر ورزش کا چلن

چین کے مشرقی شہر میں سڑک کے کنارے بعض لوگوں کو جانوروں کی طرز پر چلتے دیکھا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہQQ TVRen Dongteng

،تصویر کا کیپشنچین کے مشرقی شہر میں سڑک کے کنارے بعض لوگوں کو جانوروں کی طرز پر چلتے دیکھا جا رہا ہے

اطلاعات کے مطابق چین میں ورزش کا ایک نیا رحجان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس میں جانوروں کی طرز پر چلنا شامل ہے۔

چائنا نیوز سروس کے مطابق مشرقی شہر جینگجو میں لوگوں کو چاروں ہاتھ پاؤں پر سڑکے کے کنارے چلتے دیکھا جا رہا ہے اور انھوں نے ہاتھوں میں دستانے پہن رکھے ہیں۔

رینگتے ہوئے چلنا بہت آرام دہ نظر نہیں آتا لیکن چائنا نیوز سروس کو ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ صحت کے لیے مفید ہے۔

ہینن کے صوبائی ہسپتال کے نائب سربراہ ڈاکٹر لوپئیوان کا کہنا ہے کہ اس سے بعض پٹھوں کو تقویت ملتی ہے جس کا انسان عام طور پر استعمال نہیں کرتے۔

ان کے مطابق اس سے لیگامنٹ (نسیج) اور ہڈیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ورزش روایتی چینی طب پر مبنی ہے جس میں لوگ پانچ مختلف جانوروں بھالو، بندر، ہرن، شیر اور چڑیوں کے حرکات کی نقل کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ چین بعض غیر روایتی ورزشوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ملک کے مقبول دما رقص کے علاوہ لوگ ورزش کے طور پر پارکوں میں پیچھے کی جانب چلتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔

بہر حال چین میں بہت سے سوشل میڈیا والے صحت کے نقطۂ نظر سے چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے کی افادیت کو نہیں تسلیم کرتے جبکہ بعض اسے مضحکہ خیز تصور کرتے ہیں۔

ایک شخص نے سینا ویئبو پر لکھا: ’اگر ہم اپنے پارک میں کسی کو ایسا کرتے دیکھیں تو ہمیں بہت خفت محسوس ہوگی۔‘

جبکہ ایک دوسرے نے لکھا: ’انسانی ارتقا کے پانچ ہزار سال لوٹ آئے۔‘

تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جسم کے لیے مفید ہے جبکہ ایک شخص کا کہنا ہے کہ کم از کم اس میں کوئی موسیقی تو شامل نہیں۔

اس نے لکھا ’یہ سکوائر ڈانس (دما رقص جس میں خواتین ایک سکوائر میں رقص کرتی ہیں) سے بہتر ہے کہ اس سے کوئی پریشان تو نہیں ہوتا۔‘