لاس اینجلس کے ہسپتال نے ہیکروں کو تاوان ادا کیا

ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو ایلن سٹیفنیک کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال میں کوئی فرق نہیں پڑا

،تصویر کا ذریعہHPMC

،تصویر کا کیپشنہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو ایلن سٹیفنیک کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال میں کوئی فرق نہیں پڑا

لاس اینجلس کے ایک ہسپتال نے اپنے کمپیوٹر سسٹم کو رینسم ویئر کی مدد سے بند کر دیے جانے کے بعد ہیکروں کو 17000 ڈالر تاوان کے طور پر ادا کیے ہیں۔

ہالی وڈ کے ایک ہسپتال کا نظام کم سے کم ایک ہفتے تک متاثر رہا، جس کے نتیجے میں ہسپتال کے عملے کو تمام تر کارروائیاں کاغذوں پر کرنا پڑیں۔

تاہم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو ایلن سٹیفنیک کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

رینسم وئیر ایک ایسا مضر سافٹ ویئر ہے جس کی مدد سے متاثرہ کمپیوٹر لاک ہو جاتا ہے اور اس تک واپس رسائی کے لیے ’بِٹ کوئنز ‘ کی شکل میں تاوان ادا کرنا پڑا ہے۔

اس سے قبل مقامی خبر راساں ذرائع نے بتایا تھا کہ ہیکروں نے نظام کی بحالی کے لیے 34 لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن سٹیفنیک نے اس بات کی تردید کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان سے تاوان کے لیے 40 بِٹ کوئنز مانگے گئے جس کی مالیت 17000 ڈالر بنتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمارے لیے نظام کی جلد از جلد بحالی اور ڈیکرپشن کِی کی حصولی کا سب سے تیز اور موثر طریقہ یہی تھا کہ ہم تاوان ادا کر دیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام نظام کو وائرس سے صاف کر دیا گیا ہے اور اس کی تفصیلی جانچ بھی کر لی گئی ہے۔‘

امریکہ میں رینسم ویئر کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں رینسم ویئر کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں رینسم ویئر کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں