دل کے دورے سے بچنے کا ’نیا‘ طریقہ

،تصویر کا ذریعہSPL

سائسندانوں نے دل کے عارضے میں مبتلا ایک مریض کو بچانے کی آخری کوشش کے طور پر ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا۔

انچاس سالہ رچرڈ ریچ کے جسم میں دل کے متاثرہ والوو کے پاس چھوٹے سے غبارے والا یہ آلہ نصب کیا گیا ہے۔ انھیں ڈاکٹروں نے اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا تھا۔

لندن کے کنگز کالج ہسپتال میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس عمل سے ان کے علاج میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہی مزید تجربات کے بعد یہ آلہ ہزاروں دل کے مریضوں کی مدد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

رچرڈ ایک معمار ہیں اور وہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے کافی بیمار ہیں اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

ان کے دل کا ایک والو بند ہو گیا تھا اور خون کے دباؤ کے باعث دل پر زیادہ بوجھ پڑ رہا تھا۔

تاہم جون سنہ 2015 میں رچرڈ کے جسم میں اب تک خطرناک تصور کیا جانے والا یہ آلہ نصب کیا گیا اور چند دنوں بعد ہی انھیں گھر بھیج دیا گیا۔

پانچ ماہ بعد ان کا دل اتنا سنبھل گیا ہے کہ ڈاکٹرز ان کے دل کے والوو کا آپریشن کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

پروفیسر وینڈلر سمجھے ہیں کہ یہ طریقہ علاج دل کے مریضوں میں اوپن ہارٹ سرجری کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہCardiosolutions

،تصویر کا کیپشنپروفیسر وینڈلر سمجھے ہیں کہ یہ طریقہ علاج دل کے مریضوں میں اوپن ہارٹ سرجری کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے

رچرڈ کا کہنا ہے ’جب ڈاکٹروں کے پاس کوئی صورت نہیں رہی تو انھوں نے ایک نیا طریقۂ علاج اختیار کیا۔‘

’اب میں چلتا ہوں اور بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ جو کچھ ڈاکٹرز نے میرے ساتھ کیا وہ معجزے سے کم نہیں۔‘

’میری زندگی ان کی مقروض ہے۔‘

میڈیکل ٹیم کے سربراہ پروفیسر وینڈلر سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ علاج دل کے مریضوں میں اوپن ہارٹ سرجری کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں کل آبادی کے ایک اعشاریہ پانچ فیصد لوگ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ پروفیسر وینڈلر کے مطابق ان میں سے کم سے کم پانچ سے دس فیصد مریضوں کو ہارٹ والو کی وجہ سے دل کا شدید دورہ پڑتا ہے۔ ان تمام مریضوں کو اس طریقۂ علاج سے فائدہ ہوتا ہے۔