خواتین میں دل کی بیماری کا سبب بننے والا جین دریافت

تحقیق کے مطابق مردوں اور خواتین کو الگ قسم کے وجوہات سے دل کی بیماریوں در پیش ہیں

،تصویر کا ذریعہSOUTHERN ILLINOIS UNIVERSITYSCIENCE PHOTO LIBRARY

،تصویر کا کیپشنتحقیق کے مطابق مردوں اور خواتین کو الگ قسم کے وجوہات سے دل کی بیماریوں در پیش ہیں

ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک ایسا جین دریافت کیا ہے جس سے خواتین کو دل کی بیماریوں سے زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل جن خواتین میں بی سی اے آر 1 نامی جین تھا ان میں دیگر خواتین کے مقابلے میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج کا خطرہ زیادہ تھا۔

اس کے برعکس میں وہ مرد جن میں یہ جین موجود ہوتا ہے انھیں دل کی بیماریوں کا زیادہ خطرہ لاحق نہیں تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق حالیہ تحقیق سے اس رائے کو زیادہ تقویت ملتی ہے کہ خواتین اور مردوں میں دل کی بیماری کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔

جریدے Cardiovascular Genetics یعنی کارڈیوویسلز جنیٹکس میں شائع ہونے والی تحقیق میں یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں نے یورپ میں کی تقریباً چار ہزار خواتین اور مردوں پر کی جانے والی پانچ تحقیقات کی معلومات حاصل کیں۔

سائنسدانوں نے ان کی جینز، شریانوں کی صحت اور موٹائی کا موازانہ کرنے کے بعد انھوں نے ایک جین کو الگ کیا جس کے نتیجے میں خواتین میں دل کا دورہ پڑنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کی سربراہ فریہ بورڈمین پریٹی کا کہنا ہے کہ:’ہم ایک عرصے سے جانتے تھے کہ خواتین اور مردوں میں دل کی بیماریوں کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔‘

’اس جین نے صرف خواتین کو متاثر کیا، اگرچہ ہمیں توقع ہے کہ اس کے علاوہ بھی دیگر عوامل اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہوں گے۔‘