بھارت میں معدوم ہونے والے مینڈک کی دریافت

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت میں ایک غیر معمولی قسم کے نئی نسل کے مینڈک کی دریافت ہوئی ہے جو درختوں پر رہتا ہے۔ یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ مینڈک کی یہ نسل 137 برس پہلے ختم ہو گئی تھی۔
شمال مشرقی بھارت کے جنگلوں میں ملک کے مشہور ماہر حیاتیات ستيہ بھاماداس بیجو اور سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے یہ نئی نسل دریافت کی ہے۔
باور کیا جاتا ہے کہ مینڈک کی یہ نئی نسل چین سے لے کر تھائی لینڈ تک مل سکتی ہے۔
مینڈک کے بارے میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے اس مینڈک کی ایک نئی نسل کے طور پر درجہ بندی کر دی ہے۔
گولف کی گیند کے سائز کا یہ مینڈک زمین سے قریب چھ میٹر کی اونچائی والے درختوں کے سوراخ میں رہتا ہے اور شاید اسی وجہ سے یہ اب تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔
تاہم دوسرے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انتہائی کم سائنس دان ہی دوردراز کے علاقوں میں ریسرچ کا کام کرتے ہیں اسی وجہ سے ان پر کسی کا دھیان نہیں گیا ہو گا۔
دہلی یونیورسٹی سے منسلک بیجو کو ’فراگ مین ان انڈیا‘ کہا جاتا ہے اور انھوں نے ملک کی تقریبا 350 مینڈک کی اقسام میں سے 89 کی دریافت انھی کی ہے۔
بیجو کا کہنا ہے ’ہم نے درخت کی اونچائی سے ایک سحر انگیز موسیقی جیسی آواز سنی تو یقینی طور پر ہمیں اس کی تلاش کرنا ہی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







