حالیہ ال نینیو ’انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘

ال نینیو کے سبب سنہ 2015 گرم ترین سال رہا اور سنہ 2016 پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے
،تصویر کا کیپشنال نینیو کے سبب سنہ 2015 گرم ترین سال رہا اور سنہ 2016 پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے

امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا نے تنبیہ کی ہے کہ شدید ترین موسمیاتی مظہر ال نینیو ریکارڈ کے مطابق سنہ 1998 کی طرح خطرناک ہو سکتا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ بحرالکاہِل کی مصنوعی سیارے سے لی جانے والے تصاویر کے مطابق موجودہ ال نینیو ’میں کمی کے کوئی آثارنہیں دکھائی دے رہے۔‘

خلائی ادارے کے مطابق ’یہ بالکل دسمبر سنہ 1997 میں آنے والے بڑے اور طاقتور ال نینیو جیسا محسوس ہں رہا ہے۔‘

پیراگوائے، ارجنٹائن، یوروگوائے اور برازیل میں 50 سالوں میں آنے والے شدید سیلاب کی وجہ رواں برس آنے والے اس ال نینیو کو بتایا جا رہا ہے۔

اس سیلاب کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

موسم میں تبدیلی کی وجہ سے بعض علاقوں میں خشک سالی اور بعض علاقوں میں سیلاب میں اضافہ ہو جائےگا۔

کہا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں آنے والے طوفان کی وجہ ال نینیو ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنکہا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں آنے والے طوفان کی وجہ ال نینیو ہے

افریقہ کے بعض علاقوں میں خوراک کی کمی فروری میں شدید ہوگی جبکہ آنے والے چھ مہینوں کے دوران جزائر غرب الہند اور وسطی و جنوبی امریکی علاقے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ال نینیو ہر دو سے سات سالوں میں آتا ہے۔ عام طور پر یہ سال کے آخری مہینوں میں عروج پر ہوتا ہے تاہم اس کے اثرات آنے والے موسم بہار اور آئندہ 12 ماہ تک رہ سکتے ہیں۔

امریکی ریاست مزوری میں شدید طوفان اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سینٹ لوئیس کے قریب میسی سپی دریا کے آٹھ کلومیٹر تک کے علاقے کو کسی بھی قسم کی کشتیوں کے لیے سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والی ’خطرناک صورت حال‘ کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے ایسے میں جبکہ کہ سیلاب اور خشک سالی دونوں ساتھ ہوں تو اس کے اثرات خاطر خواہ اور پریشان کن ہوں گے۔

ایک تخمینے کے مطابق افریقہ بھر میں تین کروڑ سے زیادہ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور گذشتہ سال اس میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

ارجنٹائن کا شہر کونکورڈیا کا بڑا حصہ زیر آب ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنارجنٹائن کا شہر کونکورڈیا کا بڑا حصہ زیر آب ہے

برطانیہ کے انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے شعبے کا کہنا ہے کہ وہ 26 لاکھ افراد اور تقریباً سوا لاکھ بچوں کو ہنگامی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوری سنہ 2016 سے 80 لاکھ افراد کو کھانا یا اس کے لیے رقم فراہم کریں گے۔

امدادی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے 2016 میں شام میں جنگ، جنوبی سوڈان اور یمن کے ساتھ ساتھ ال نینیو کے اثرات دباؤ میں مزید اضافہ کر دیں گے۔

ادارے کے مطابق آئندہ فروری میں جنوبی افریقہ میں خوراک کی قلت میں اضافہ ہو جائے گا اور ملاوی میں ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ لوگوں کو مارچ سے قبل امداد کی ضرورت ہو گی۔

یورپ اور امریکہ کے کئی علاقوں میں معمول سے ہٹ کر درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔