برطانیہ میں دس بچہ دانیوں کے ٹرانسپلانٹ کی اجازت

سوئیڈن میں مادر رحم یا بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ کی کامیابی کے بعد برطانیہ میں بھی ڈاکٹروں کو پہلی بار دس بچہ دانیوں کے ٹرانسپلانٹ کی اجازت مل گئی ہے۔

شعبہ طب میں تجربے کے طور پر اس کی جراحت سے متعلق ضابطہ اخلاق کو منظوری دے دی گئی ہے اور اسے آئندہ موسم بہار میں شروع کیا جائےگا۔

تقریباً ہر پانچ ہزار خواتین میں سے ایک خاتون میں پیدائشی طور پر بچہ دانی نہیں ہوتی ہے اور بہت سی دیگر خواتین کینسر کے سبب اس سے محروم ہوجاتی ہیں۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہوجاتا ہے تو برطانیہ میں ٹرانسپلانٹ کی گئی بچہ دانی کے ذریعے پہلی بار 2017 کے اواخر یا پھر 2018 کے اوائل میں بچہ پیدا ہوسکتا ہے۔

پہلے ہی ایسی تقریباً سو خواتین کی نشاندہی کی گئی ہے جو عطیہ کی گئی مادر رحم سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

لندن میں چیلسی ہسپتال اور کوئن شارلیٹ کے ماہرگائناکولوجسٹ ڈاکٹر رچرڈ سمتھ، جو اس پروجیکٹ پر تقریباً 19 برس سے کام کرتے رہے ہیں، ٹرانسپلانٹ کاری کی اس ٹیم کی سربراہی کریں گے۔

بے اولاد خاتون کے لیے سروگیسی ایک متبادل تو ہے لیکن اس سے خواتین کے اپنے خود کے بچے کو اپنی مادر رحم میں پالنے کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبے اولاد خاتون کے لیے سروگیسی ایک متبادل تو ہے لیکن اس سے خواتین کے اپنے خود کے بچے کو اپنی مادر رحم میں پالنے کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی

ان کا کہنا ہے کہ جوڑوں کا بے اولاد ہونا بھی خطرناک ہوسکتا ہے لیکن یہ تکنیک ان افراد کے لیے امید کی کرن ثابت ہوسکتی جن کے پاس سرجری یا گود لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’میں ایسی بہت سی خواتین سے ملا ہوں جو یہ چاہتی ہیں اور یہ ان کے اور ان کے والدین کے لیے حقیقت میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے جوڑوں کے لیے بے اولاد ہونا تباہ کن ہے۔‘

ڈاکٹر رچرڈ سمتھ کا کہنا تھا کہ ’خواتین میں بانجھ پن کا علاج مشکل کام ہے۔ سروگیسی ( کرائے کی مادر رحم) ایک متبادل تو ہے لیکن اس سے خواتین کے اپنے خود کے بچے کو اپنی مادر رحم میں پالنے کی خواہش تو پوری نہیں ہوسکتی۔‘

اس کے لیے جن خواتین کا انتخاب کیاجائےگا ان میں ان تمام شرائط کا پایا جانا لازمی ہے، جیسے ان کی عمر 38 برس سے زیادہ نہ ہو، ان کے ساتھ لمبے عرصے کے لیے ان کا ساتھی ہو اورصحت مندی کے زمرے ميں آنے والا وزن بھی ہو۔

برطانیہ میں اب تک جن 300 خواتین نے اس کے لیے رابطہ کیا ہے اس میں سے صرف 104 خواتین ہی ان شرائط پر پوری اتری ہیں۔