انسانی ایمبریو کی جینیاتی ساخت میں ترمیم کی اجازت ’ضروری‘

،تصویر کا ذریعہSPL

سائنس دانوں، اخلاقیاتی ماہرین اور پالیسی ماہرین پر مشتمل ایک گروہ کا کہنا ہے انسان کے ایمبریو کی جینیاتی ساخت میں ردوبدل کی اجازت ہونا ’ضروری‘ ہے۔

ہنگسٹن گروپ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی مراحل میں جینیاتی کوڈ میں ترامیم کرنا تحقیق کے لیے ’بہت اہمیت‘ رکھتا ہے۔

ساتھ ہی اس رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ فی الحال جی ایم بچوں (وہ بچے جن میں جینیاتی طور پر تبدیلی کر دی جائے) کی پیدائش کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ممکن ہے مستقبل میں مخصوص حالات کے تحت ایسے بچوں کی پیدائش کو ’اخلاقی طور پرتسلیم‘ کر لیا جائے۔

امریکہ نے ایمبریوز میں ترامیم سے متعلق جینیاتی تحقیق میں مالی امداد دینے سے انکار کیا ہے۔

عالمی ہنگسٹن گروپ کی یہ میٹنگ جینیاتی تحقیق کے شعبے میں ہونے والی حیرت انگیز پیش رفت کے حوالے سے ہوئی ہے۔

مختلف اقسام کے منفرد تکنیکی طریقہ کاروں پر مشتمل ’مالیکیولر سیٹ نیو‘ ہمارے جسم کے اندر مخصوص جگہوں پر پہنچ کر ’مالیکیولر سیزرز‘ کے ذریعے ہمارے ڈی این اے میں کٹ لگاتے ہیں۔

اس تحقیق کے بعد اس شعبے میں کئی نئی جہتیں سامنے آئی ہیں۔ ساتھ ہی تحقیق میں ہونے والی اس پیش رفت کے بعد بچوں میں جینیاتی تبدیلیاں کرنا اب محض ایک امکان نہیں رہا بلکہ تیزی سے ممکنات میں شامل ہو رہا ہے۔

رواں سال کے اوائل میں چین کی سُن یاٹ سِین یونی ورسٹی کی ایک ٹیم کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈی این اے میں موجود ایسی خرابی ایمبریوز کی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں دور کی جا سکتی ہے جو آگے جا کر خون کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدائش سے قبل ہی بچوں میں سِسٹک فائبروسس اورکینسر کا باعث بننے والے خلیوں کی روک تھام کی جا سکے گی۔

دوسری طرف کئی حلقوں کی جانب سے اس قسم کی تحقیقات پر پابندی کے مطالبے کیے جا رہے ہیں جس کے بعد اب یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ ان سائنسی تجربات کی آخری حد کیا ہوگی۔ کیا ایمبریوز پر کی جانے والی کسی بھی تحقیق پر پابندی لگا دی جائے؟ صرف تحقیق کی حد تک اجازت دی جائے یا پھر جی ایم بچوں کی پیدائش کی اجازت دے دی جائے؟

،تصویر کا ذریعہ SPL

مانچسٹر میں بااثرہنگسٹن گروپ کی میٹنگ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ جس رفتار سے اس شعبے میں تحقیق آگے بڑھ رہی ہے اس سے ’فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ میں بھی اضافہ‘ ہو گیا ہے۔ اس میٹنگ میں ایمبریوز میں تبدیلی یا ترامیم کرنے کی اجازت ہونے پر بحث کی گئی ہے۔

گروپ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ بنیادی تحقیق میں اس ٹیکنالوجی کی بہت اہمیت ہے اور یہ آگے جا کر مزید مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن ابھی یہ ٹیکنالوجی اس قابل نہیں ہوئی ہے کہ اسے تولیدی عمل میں انسانی جینوم میں تبدیلی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔‘

امریکی میں قومی صحت کے ادارے کا موقف اس معاملے میں یکسر مختلف ہے اور وہ ایمبریو کی جینیاتی تبدیلیوں سے متعلق کسی بھی تحقیق پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکے ہیں۔

اس ادارے کے ڈائریکٹر اور ہیومن جینوم پراجیکٹ میں شامل اہم شخصیت، ڈاکٹر فرانسس کولن کہتے ہیں ’ایمبریوز میں انسان کے موروثی ڈی این اے میں طبّی مقاصد کے لیے ترامیم پرمختلف نقطعہ نظر کے تحت کئی سالوں سے بحث جاری ہے۔ اور عالمی سطح پر محسوس کیا گیا ہے کہ یہ وہ حد ہے جسے کسی صورت پار نہیں کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہSPL

تاہم ہنگسٹن گروپ کی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ’ انسانوں کے پیدائشی عمل میں اخلاقی طور پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے قابل قبول طریقے ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ اس پر ابھی مزید پُرمغز بحث کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ادھر اس نئی ٹیکنالوجی اورڈی این اے میں تبدیلی کے سب سے سہل طریقہ کار کے بنیادی اعدادوشمار کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔

پروفیسر ایمونیل شاخپونٹیے نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ذاتی طور پر میں نہیں سمجھتی کہ انسان کے موروثی ڈی این اے میں ان جینیاتی خصوصیات میں ردوبدل کرنا جائز ہے جو کئی نسلوں سے منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

’مجھے اس وقت انسانی موروثی ڈی این اے میں کیے جانے والے ردوبدل پر اعتراض ہے۔‘

بائیو تھکس کی نوفیلڈ کونسل کے ڈاکٹر پیٹر مِلز نے اس گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کے قدموں کی آواز ہم کچھ عرصے سے سن رہے تھے۔ لیکن اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس وقت اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دیں گے جب یہ ہمارے دروازے تک آن پہنچے گی۔‘