سات ہزار سال پرانی اجتماعی قبر کی دریافت

،تصویر کا ذریعہChristian Meyer
جرمنی میں ایک سات ہزار پرانی اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے جس سے زمانہ قبل از تاریخ میں وسطی یورپ میں پائے جانے والے پرتشدد تصادم کے بارے میں مزید شواہد ملے ہیں۔
اس اجتماعی قبر سے 26 افراد کے ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔
یہ انسانی ڈھانچے وسطی جرمنی کے علاقے شونیک-کیلینستادٹن سے ملے ہیں۔
اجتماعی قبر سے ملنے والے ڈھانچوں کی کھوپڑیوں پر زخم کے نشانات ہیں۔ کچھ کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جس سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان افراد پر تشدد کیا گیا تھا۔
سائنس دانوں نے سائنسی جریدے پی این اے ایس کو بتایا ہے کہ ان ڈھانچوں کی صورتحال سے جدید زمانہ پتھر کے دوران پھیلنے والی تشدد کی کارروائیاں ظاہر ہوتی ہیں۔
اسی طرح کے اجتماعی قبریں اس سے پہلے جرمنی کے علاقے ٹالہیم اور آسٹریا میں اسپارن اور شلیٹز کے مقامات پر دریافت ہوئی تھیں۔
ان افراد کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ کھیتی باڑی سے منسلک تھے جن کے برتن سازی کے انداز نے یورپ میں لینیئر پاٹری کلچر کو پروان چڑھایا، جسے جرمن زبان میں ایل کہ بی کلچر بھی کہا جاتا ہے۔
اس گروہ نے آثار قدیمہ کا بیش قیمت خزانہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ کرسچین میئر اور ان کے ساتھیوں کے خیال میں ان اجتماعی قبروں کا ملنا انتہائی غیرمعمولی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہchristian meyer
اس دور کے ان افراد کو عموماً باقاعدہ تقریب کے ساتھ بائیں کروٹ پر دفن کیا جاتا تھا، اور ان کے ساتھ قیمتی اشیا بھی دفن کی جاتی تھیں۔ تاہم حالیہ ملنے والی اجتماعی قبر میں لاشوں کو بے ترتیب انداز میں دفن کیا گیا اور ان کے ارد گرد ہر قسم کے بیکار چیزیں بھی پائی گئی ہیں۔
شونیک-کیلینستادٹن میں ایک سڑک کی کھدائی کے دوران پہلی بار ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی تھی جس میں دس بچوں کے ڈھانچے ملے تھے، جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ ان کو جب دفن کیا گیا تو ان کی عمر چھ سال سے زیادہ نہیں تھیں۔
اس کے علاوہ ان ڈھانچوں کی ہڈیوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے اور اجتماعی قبر سے بڑی تعداد میں تیر بھی ملے ہیں۔
ان ہتھیاروں کی موجودگی کو ان افراد کی موت سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر میئر کہتے ہیں: ’ہم ابھی نہیں جانتے کہ اس وقت کیا ہوا ہوگا، تاہم ہمارے خیال میں کھیتی باڑی سے منسلک متعدد گروہ ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہCHRISTIAN MEYER
یونیورسٹی آف مینز کے محقق کرسچین میئر کا کہنا ہے کہ ’اس سے قبل دریافت ہونے والے دو مقامات پر ہمیں تشدد کے شواہد ملے ہیں، اور یہ تینوں مقامات ایل کے بی کلچر کے اختتام پر منتج ہوتے ہیں، چنانچہ میرے خیال میں اس وقت ضرور کوئی اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہوگی۔‘
کرسچین میئر نے بی بی سی کو بتایا: ’ضرور کچھ ایسا ہوا تھا جس کی وجہ سے کھیتی باڑی کرنے والے گروہوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا۔‘
اس میں سب اہم پہلو یہ ہے کہ تقریباً دوتہائی ڈھانچوں کی پنڈلیوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جب ان کی ٹانگیں توڑی گئیں تو وہ زندہ تھے یا مردہ حالت میں، کیونکہ اگر مرنے کے بعد لاش کو مسخ کیا جائے تو تب بھی ہڈیاں ویسی ہی دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم یہ امر قابل فہم ہے کہ ان پر تشدد کیا گیا تھا۔‘







