سوشل میڈیا بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف سرگرم

تصاویر کو ٹیگ کرنے کا وسیع نظام بچوں کے جنسی استحصال میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہPress Association

،تصویر کا کیپشنتصاویر کو ٹیگ کرنے کا وسیع نظام بچوں کے جنسی استحصال میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے

انٹرنیٹ سے بچوں کی لاکھوں نازیبا تصاویر ہٹانے کے لیے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی بڑی انٹرنیٹ سائٹوں نے ایک برطانوی فلاحی ادارے کی کوششوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

برطانیہ میں بچوں کے استحصال کی مخالفت کرنے والی پہلی تنظیم انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (آئي ڈبلیو ایف) نے ایک مخصوص ہیش کوڈ کے ساتھ نازیبا اور فحش تصاویر کی فہرست شیئر کرنا شروع کر دی ہے۔

فلاحی گروپ کا کہنا ہے کہ تصاویر کو ٹیگ کرنے کا یہ وسیع نظام بچوں کے جنسی استحصال میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

بہرحال انٹرنیٹ کے سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کے ’ڈارک نیٹ‘ یا تاریک گوشوں پر ایسی تصاویر کا پتہ نہیں چل پائے گا۔

آئی ڈبلیو اے بچوں کی نازیبا تصاویر کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے کام کررہا ہے۔ وہ ہر فحش اور ناروا تصویر کے لیے ایک مخصوص ہیش کوڈ کا استعمال کرتا ہے جسے بعض اوقات ڈیجیٹل فنگرپرنٹ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

آئی ڈبلیو اے بچوں کی ناشائستہ تصاویر کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے کام کررہا ہے

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنآئی ڈبلیو اے بچوں کی ناشائستہ تصاویر کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے کام کررہا ہے

بچوں کی فحش تصاویر کی ’ہیش لسٹ‘ جاری کرنے سے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو ان تصاویر کو اپنی ویب سائٹوں پر ڈالنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔

آن لائن سکیورٹی کے ماہرین نے اسے مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم کہا ہے کہ ’ڈارک نیٹ‘ پر موجود مواد کو اس سے نہیں روکا جا سکتا۔ خیال رہے کہ ’ڈارک نیٹ‘ پر رسائی محدود لوگوں کی ہے اور وہاں عام طور پر ناجائز استعمال کرنے والے تصاویر ڈالتے ہیں۔

گذشتہ سال برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انٹیلیجنس اور منظم جرائم کے ماہرین ’تاریک نیٹ‘ پر بچوں کے استحصال کی تصاویر سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

انھوں نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں بچوں کا آن لائن استحصال ’تقریباً صنعتی سطح پر‘ کیا جا ہے۔