ستارے کی پیدائش کا پہلی بار براہِ راست مشاہدہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
فلکیات دانوں نے ریڈیو دوربین سے لی جانے والی دو تصاویر کی مدد سے ایک بھاری ستارے کی پیدائش کے 18 سال پر محیط اہم مرحلے کا مشاہدہ کیا ہے۔
یہ ستارہ زمین سے 4200 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کے گرد ایک دائروی شکل کا دھول کا غبار موجود ہے۔
یہ غبار ستارے سے خارج ہونے والی گرم گیس کی رفتار کو سست کر دیتا ہے، جس سے ایک ستون نما شکل وجود میں آتی ہے۔
نئے مشاہدے میں اس ستون کی تشکیل کے ’عمل سے پہلے اور عمل کے بعد‘ کی تصاویر لی گئیں۔
یہ تصاویر امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک صحرا میں نصب ’ویری لارج ارے‘ نامی ایک دوربین سے لی گئیں اور انھیں جریدے ’سائنس‘ میں شائع کیا گیا۔
نیشنل آٹانومس یونیورسٹی آف میکسیکو سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے پہلے مصنف کارلوس کراسکو گونسالس نے کہا: ’دونوں تصاویر کا تقابل قابلِ ذکر ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ 1996 میں دیکھی جانے والی گول ہوا صرف 18 سال بعد 2014 میں ایک واضح لمبوتری شکل اختیار کر چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ ننھا ستارہ سورج سے تین سو گنا زیادہ روشن ہے اور اس کا نام W75N(B)-VLA2 ہے۔
تحقیق کے ایک اور مصنف نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی کے پروفیسر ہیوب فان لانگفیلڈ کہتے ہیں کہ کسی ستارے کی پیدائش کے ڈرامائی عمل کا مشاہدہ بہت انوکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’یہ ستارہ ہمیں اگلے چند برسوں میں ستارے کی تشکیل کے عمل کی زبردست جھلکیاں فراہم کرے گا۔‘
تصاویر کے مشاہدے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ستارے سے خارج ہونے والی گیس کا ستون اس کے مقناطیسی میدان کے متوازی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقناطیسی میدان ستارے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق میں شامل ایک اور سائنس دان ڈاکٹر گیبریئل سورسس کہتے ہیں: ’ہمارے پاس سورج جیسے ستاروں کے مقابلے پر بھاری ستاروں کی تشکیل کے عمل کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ یہ عمل ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم یہ ساری تبدیلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔‘







