’ 70 ہزار سال پہلے پردیسی ستارے کا نظامِ شمسی سے گزر‘

،تصویر کا ذریعہMichael Osadciw
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 70 ہزار سال قبل ہمارے نظام شمسی سے باہر ایک ستارہ ہمارے نظام شمسی میں سے گزرا تھا۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ اس سے قبل کوئی بھی باہر کا ستارہ ہمارے نظام شمسی کے اتنے قریب سے نہیں گزرا۔
تحقیق دانوں کی بین الاقوامی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ ہمارے سب سے قریبی ستارے پروکسیما سینٹوری سے بھی زیادہ قریب آ گیا تھا۔
شولز نامی ستارہ ہمارے شمسی نظام کی بیرونی حد کے قریب سے گزرا جس کو اورٹ کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ہمراہ ایک اور ستارہ بھی تھا۔
یہ تحقیق ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہمارے سب سے قریب موجود ستارہ پروکسیما سینٹوری ہم سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر ہے جبکہ یہ ستارہ 0.8 نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔
نیو یارک کی روچسٹر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایرک بتاتے ہیں کہ سائنسدانوں کی ٹیم کو 98 فیصد یقین ہے کہ یہ ستارہ اورٹ کلاؤڈ کے بیرونی حصے سے گزرا تھا جہاں کھربوں دمدار ستارے موجود ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ستارے کا راستہ معلوم کرنے کے لیے سائنسدانوں کو دو معلومات درکار تھیں۔ ایک تو ستارے اور سورج کے فاصلے میں تبدیلی اور دوسری اس کی حرکت۔
شولز ستارہ اس وقت ہماری نظام شمسی سے 20 نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اورٹ کلاؤڈ سے گزرنے والا ستارہ نظام میں موجود دمدار ستاروں کے مدار میں تبدیلی لا سکتا ہے اور ان کو نظامِ شمسی کے اندرونی حصے کی جانب بھیج سکتا ہے۔ تاہم روچسٹر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایرک کا کہنا ہے کہ شولز نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
ایرک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اورٹ کلاؤڈ میں کھربوں دمدار ستارے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس ستارے کے باعث ان میں کچھ تبدیلی آئی ہو۔ لیکن ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ستارے کے باعث دمدار ستاروں کی بارش ہو۔‘







