بالغ افراد کو ’پانچ سال میں تقریباً ایک بار‘ فلو ہوتا ہے

’پی ایل او ایس بائیالوجی‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے فلو کی نو مرکزی اقسام کا جائزہ لیا جو دنیا میں 1968 اور 2009 کے دوران پائی گئیں

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشن’پی ایل او ایس بائیالوجی‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے فلو کی نو مرکزی اقسام کا جائزہ لیا جو دنیا میں 1968 اور 2009 کے دوران پائی گئیں

چین میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق بالغ افراد کو فلو کا مرض ہر پانچ سال میں تقریباً ایک بار لاحق ہوتا ہے۔

اس عالمی ٹیم کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ اس سے زیادہ مرتبہ خود کو بیمار محسوس کرتے ہیں تاہم عام طور پر اس کی وجہ فلو جیسے دیگر انفیکشنز ہوتے ہیں۔

ان سائنس دانوں نے سات سال سے لے کر 81 سال تک عمر کے 151 رضاکاروں کے خون کے نمونوں کا معائنہ کیا تاکہ معلوم کر سکیں کہ فلو کتنی بار حملہ آور ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ڈیٹا یا معلومات اس سے پہلے نہیں حاصل کی گئیں اور ان سے ماہرین کو یہ جاننے میں آسانی ہو گی کہ کون کتنی بار فلو کی زد میں آ سکتا ہے اور یہ کہ یہ مرض آبادیوں میں کس حد تک پھیل سکتا ہے۔

’پی ایل او ایس بائیولوجی‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے فلو کی نو مرکزی اقسام کا جائزہ لیا جو دنیا میں 1968 اور 2009 کے دوران پائی گئیں۔

برطانیہ کے امپیریل کالج اور امریکہ اور چین سے تعلق رکھنے والے ان محققین نے کا کہنا ہے کہ بچوں کو اوسطاً ہر دوسرے سال فلو ہوتا ہے، تاہم عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ وقفہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد فلو ایک دہائی میں تقریباً دو بار ہوتا ہے۔

ان محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ چین میں کی گئی تحقیق اور اس سے اخذ کی گئی معلومات یا ڈیٹا کا اطلاق دوسرے ممالک کی آبادی پر نہ ہو۔

اس مقصد کے لیے ایسی ہی ایک تحقیق برطانیہ میں بھی کی جائے گی تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ چین میں کی گئی تحقیق کے نتائج کا اطلاق برطانوی باشندوں پر ہوتا ہے یا نہیں۔

H3N2A قسم کا فلو رواں سال برطانیہ میں گذشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ اور اپنی پوری شدت کے ساتھ پھیل رہا ہے۔