سمندر کی تہہ میں دو کلومیٹر اونچے پہاڑ

محققین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ سمندر میں موجود 25000 نئے پہاڑوں کو تلاش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSCRRIPS INSTITUTION OF OCEANO GRAPHY

،تصویر کا کیپشنمحققین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ سمندر میں موجود 25000 نئے پہاڑوں کو تلاش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

یورپی محققین کی ایک ٹیم نے بحرِ اوقیانوس کہ تہہ میں ایسے ہزاروں نئے پہاڑوں کی نشاندہی کی ہے جن کی اونچائی کم سے کم ڈیڑھ کلومیٹر ہے۔

پروفیسر ڈیوڈ سینڈویل اور ان کے ساتھیوں نے ریڈار سیٹلائٹ کا استعمال کر سمندر کے نیچے موجود ان پہاڑوں کا پتہ لگایا ہے اور یہ رپورٹ ’سائنس میگزین جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے۔

پروفیسر ڈیوڈ سینڈ ویل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریڈار سے موصول ہونے والے سابقہ اعدادوشمار کے مطابق ہم دو کلومیٹر سے اونچائی والی چیزیں دیکھ سکتے تھے اور وہاں پانچ ہزار سمندری پہاڑ موجود تھے، نئے ڈیٹا میں ہم ڈیڑھ کلومیٹر اونچائی والی چیزیں دیکھ پا رہے ہیں، ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔‘

انہوں نے بتایاکہ ’یہ بڑی کامیابی کی طرح نہیں اور لگتا ہے لیکن سمندر کے نیچے چھوٹے سائز کے پہاڑوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔‘

سكريپس انسٹی ٹیوشن آف اوشينوگرافي کے محققین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ سمندر میں موجود پانچ ہزار پہاڑوں کے علاوہ مزید 25 ہزار نئے پہاڑ تلاش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

سمندر کی تہہ میں یہ پہاڑ کہاں واقع ہیں، ان کا مقام ماہی گیری اور سمندری حفاظت سے منسلک انتظامیہ کو معلوم ہونا ضروری ہے کیونکہ اس جگہ کے گرد جنگلی حیات جمع ہوتی ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ سمندر کی تہہ کے کھردرے پن کے بارے میں آگاہی سے اس کے لہروں کے اٹھنے اور اس کےموسم پر اثر کا پتہ چلتا ہے ۔

لیکن ابھی سمندر کی تہہ کے بارے میں ہمارا علم ناکافی ہے جس کی ایک مثال ملائیشیا کے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش میں درپیش مسائل کی صورت میں سامنے ہے۔

شپ بورن کی مدد سے سمندر کے اندر گونج کو ریکارڈ کیا جاتا ہےاور سمندر کی تہہ میں موجود چیزوں کی موجودگی کا پتہ چل سکتا ہے۔ تاہم اس وقت دنیا میں صرف 10 فیصد سمندر ایسا ہے جن کا درست طریقے سے معائینہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ بہت محنت طلب کام ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی سے منسلک ڈائیٹ ملر کا کہنا بجا لگتا ہے کہ ہم سمندر کی تہہ کی نسبت مریخ کی سطح کے بارے میں بہت زیادہ جانتے ہیں۔

سمندر کی تہہ کے بارے میں مزید تحقیق کے لیے ایک متبادل طریقہ ایسی سیٹلائٹ کا اس استعمال ہے جس کے ساتھ ’آلٹیمیٹر ریڈار‘ کے موجود ہو۔ اس ریڈار کی مدد سے اشیا کی اونچائی کو ناپا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ خلائی جہاز کی مدد سے سمندر کی سطح پر موجود پانی کی ہئیت سے سمندر کی تہہ کی شکل کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

حالیہ تحقیق میں اس وقت ’کرائیوساٹ‘ نامی خلائی جہاز زمین کے مدار میں چکر لگا رہا ہے اور معلومات اکھٹی کر رہا ہے جبکہ خلائی جہاز ’جیسن ون‘ اپنا کام مکمل کر چکا ہے۔

نئی دریافتیں بھی ہو رہی ہیں ان میں’گلف آف میکسیکو‘ کے معدوم پہاڑی سلسلے بھی شامل ہیں جہاں 18 کروڑ سال قبل سمندر کی تہہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

جنوبی بحرِ اوقیانوس میں بھی محققین نے دو حصوں میں بٹے ایسے پہاڑی سلسلے دریافت کیے ہیں جو ساڑھے 80 کروڑ برس قبل افریقہ اور جنوبی امریکہ کی تقسیم کے موقع پر بنے تھے۔

غیر معمولی امر یہ ہے کہ اس قسم کے پہاڑی سلسلے تہہ در تہہ زمین میں چھپ جاتے ہیں اور صرف ’نیو گریویٹی‘ ڈیٹا سے ہی دکھائی دیتے ہیں۔