زحل کے چاند ٹائٹن کے ’طلسمی جزیرے‘ کا راز

،تصویر کا ذریعہ
نظام شمسی کے سیارے زحل کے چاند ٹائٹن پر نظر آنے والے پراسرار ’طلسمی جزیرے‘ نے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
واضح رہے کہ کیسینی نام کے خلائی جہاز نے اس چاند کے گرد اپنی ایک گردش کے دوران اس جزیرے کی تصویر لی تھی تاہم دوسری گردش میں وہ جزیرہ وہاں سے غائب تھا۔
یہ روشن دھبا ٹائٹن چاند کے شمالی قطبی علاقے میں موجود ایتھین اور میتھین کے سمندر میں دیکھا گیا تھا۔
سائنس دانوں نے کہا ہے کہ یہ برف کا تودہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کے دوسری بار نظر نہ آنے کی وجہ سمندر سے اٹھنے والی لہریں اور گیس کے بلبلے بھی ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق نیچر جیوسائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
سائنس دانوں کی دلچسپی زحل کے اس بڑے چاند میں اس لیے ہے کہ اس کی زمین سے بہت مشابہت ہے۔
ٹائٹن کے پہاڑ اور ٹیلے اور چٹانیں مٹی کے بجائے میتھین اور ایتھین کی برف کے بنے ہوئے ہیں اور زمین پر پانی جو کردار ادا کرتا ہے، وہاں یہ ہائیڈروکاربن اس قسم کے کئی کردار ادا کرتے ہیں۔
میتھین اور ایتھین زمین پر تو گیسیں ہیں (میتھین وہی گیس ہے جو ہمارے ہاں سوئی گیس کہلاتی ہے) لیکن ٹائٹن کے منفی 180 ڈگری درجۂ حرارت پر انھوں نے مائع شکل اختیار کر رکھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ٹائٹن کے قریب سے گزرتے ہوئے کیسینی نے دس جولائی سنہ 2013 میں جس جزیرے کو دیکھا تھا وہ اس کے بعد لی جانے والی تصویروں میں نہیں تھا۔
جب 26 جولائی کو سٹیلائٹ کیسینی ادھر سے گزرا تو وہ پھر وہاں نہیں تھا اور وہ اس کے بعد دو چکروں کے دوران بھی نظر نہیں آیا۔

،تصویر کا ذریعہ
اس تحقیق کے معاون مصنف جیسن ہوف گارٹنر نے بی بی سی کو بتایا: ’اگرچہ اسے طلسمی جزیرہ کہا جاتا ہے لیکن ہمارے خیال سے یہ کوئی جزیرہ نہیں۔ یہ اس قدر جلدی جلدی ابھرتا اور غائب ہوتا ہے کہ یہ آتش فشاں بھی نہیں ہو سکتا۔‘
انھوں نے کہا ’ایسے میں ہمارے پاس چار مفروضے ہیں اور سب ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں: یہ لہریں، اٹھتے بلبلے، تیرتے ٹھوس مادے اور معلق ٹھوس مادہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP







