زحل سیارے کے چاند ٹائیٹن پر پلاسٹک پائی گئی

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز کیسینی کو زحل کے ٹائیٹن نامی چاند پر پروپِین یا پروپائلین کے شواہد ملے ہیں۔
یہ مالیکیول پلاسٹک کا اہم جزو ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھی سیارے یا اس کے چاند پر پلاسٹک کے اجزائے ترکیبی پائے گئے ہیں۔
یہ انکشاف کیسینی کے انفرا ریڈ سپیکٹرومیٹر میں سامنے آیا ہے۔ یہ تحقیق ایسٹرو فزیکس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دان کونر نکسن کا کہنا ہے ’یہ کیمیائی جزو زمین پر ہمارے ارد گرد پایا جاتا ہے۔ اس کو ہم عام زبان میں پلاسٹک کہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی ایک عمدہ مثال وہ پلاسٹک کے ڈبے ہیں جو ہر باورچی خانے میں ہوتے ہیں جن میں کھانا یا اشیا رکھی جاتی ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق زحل کے چاند ٹائیٹن پر میتھین پائی جاتی ہے۔ کیسینی کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ ٹائیٹن پر پروپین بھی بڑی مقدار میں ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2017 تک زحل کے تحقیقاتی مشن اور ’کیسینی‘ کو ختم کر دے گا۔ تاہم حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے فنڈز میں کمی کے باعث اسے پہلے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کیسینی‘گذشتہ نو سالوں سے سیارہ زحل کے گرد گردش کر رہا ہے۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی سیکھنے کے لیے بہت کچھ باقی ہے اور سائنس دان ’کیسینی‘ کے باقی ماندہ وقت میں مزید تحقیقات کے منصوبے بنا رہے ہیں جو گزشتہ برسوں میں کیے جانے والے مشنز کے مقابلوں میں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ان مشنز میں زحل اور اُس کے مدار کے درمیان غوطہ زنی بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ جولائی میں ناسا نے کہا تھا کہ خلائی جہاز ’کیسینی‘ خلا سے زمین کی تصویر لے گا اور اس منصوبے کی ٹیم چاہتی ہے کہ دنیا پر بسنے والے تمام لوگ زحل کی جانب ہاتھ لہراتے ہوئے مسکرا کر دیکھیں۔
خلائی جہاز نے سیارہ زحل اور اس کی مدار کی تصاویر لیتے ہوئے 90 کروڑ میل کے فاصلے سے زمین کی بھی تصویر لی۔







